* الله کی مدد کے لئے دوا مانگنے کا طریقہ

الله کی مدد کے لئے د عا مانگنے کا طریقہ

سوره نمبر ١٠، یونس، آیت نمبر ١٢،  

وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ

o مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَ‌ٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ :

جب انسان پر سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے مگر جب ہم مصیبت کو ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے تو گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اور اسی لئے حد سے گزر جانے والوں کو انکے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں  

سوره نمبر ١٢، یوسف ، آیت نمبر ٨٧ کا حصّہ

وَلاَ تَيْأَسُواْ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِنَّهُ لاَ يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ

ترجمہ :

الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو – الله کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں

سوره نمبر ٣٠، الروم ، آیت نمبر ٣٣،     

 وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً

إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

ترجمہ : 

جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں اور جب  وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں

سوره نمبر ٤، اننساء ، آیت نمبر ٧٩    

مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ

o وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

ترجمہ :

اے انسان ! تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے وہ الله کی عنایت سے ہوتی ہے اور جو مصیبت آتی ہے وہ تیرے کسب و اعمال کی بدولت ہے اے محمّد (صلی الله و علیہ و سلم) ! ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر الله کی گواہی کافی ہے

سوره نمبر ٧٠،  المارج ، آیت نمبر ١٩ سے ٢٢ تک     

إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّجَزُوعًا إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا

o إِلَّا الْمُصَلِّينَ o وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا

ترجمہ :

انسان بڑا بے صبرہ پیدہ ہوا ہے جب کوئی مسثبات آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب خوش حالی آتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے لیکن  وہ لوگ جو نماز پڑھتےہیں اس سے بچے ہوئے ہیں

سوره نمبر ٢، البقر ، آیت نمبر  ١٥٣ 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ :

اے ایمان والوں ! تم الله کی مدد صبر اور نماز کے ساتھ حاصل کرو ، اور الله ان کے ساتھ ہے جو صبر رکھتے ہیں

سوره نمبر ، ١٠٣، العصر 

o إِنَّ الْإِنسَانَلَفِي خُسْرٍ o وَالْعَصْرِ

   o إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر

ترجمہ :

زمانے کی قسم ! انسان بڑے خسارے میں ہے سواۓ ان لوگوں کے جو ایمان لاۓ اور نیک اعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے ہیں 

سوره نمبر ٢٦، الشورہ ، آیت نمبر ٧٩ اور ٨٠ 

 o وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

ترجمہ : 

جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

تبصرہ :

حضرت ابراہیم علیہسلام نے لوگوں کو ایک پیغام دیا کہ الله جو سب سے بڑا ہے وہ لوگوں کو کھلاتا پلاتا ہے اور بیماری میں وہی شفا بھی دیتا ہے یہ حقیقت ہے کہ غذا اور پانی زندگی کے دو اہم اجزاء ہیں اور ان کے بنا زندگی نہیں – اسلئے الله نے بڑے طریقے سے انسان کے رزق کا انتظام کیا ہے دوسرے الفاظ میں الله نے زمین پر رہنے والی مخلوق کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے غذا اور پانی کا بندوبست کر رکھا ہے

جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر  پوری تشخیص کرنے کے بعد بہترین دوا دیتے ہیں اس دور میں طبّی دواؤں کی تحقیق جاری ہے اسی لئے بازار میں ہر قسم کی بیماری کے علاج کے لئے دوائیں موجود ہیں اتنی زبردست انکشافات کے باوجود قدرت کا اپنا نظام ہے مریض کو ایک دوا سے فائدہ ہوتا ہے اور اسی دوا سے نہیں بھی ہوتا جب الله کسی کو اسی دوا سے فائدہ دیتا ہے تو اس کی مرضی ہوتی ہے اور فائدہ نہیں دینا ہوتا ہے تو شفا نہیں ملتی ہے یہ الله کی مرضی پر منحصر ہے 

سوره نمبر ١، سوره فاتحہ ، آیت نمبر ٤،

 o إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

ترجمہ : 

ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں

سوره نمبر  ٧، الاعراف، آیت نمبر ١٩٧

وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلا أَنفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ

 ترجمہ :

تم الله کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تمھاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ خود اپنی مدد کرنے کے قابل ہیں

 

.سوره نمبر ٤٠ ، المومن (غافر) آیت نمبر ٦٠

 وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي

سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ

  ترجمہ :

ترجمہ : 

آپکا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمھاری د عا ئیں قبول کرونگا جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار ہوکر جہنّم میں داخل ہونگے  

 

Surah No. 7, Al Aaraaf, Ayat No. 55

 

o ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً

ترجمہ :

الله سے د عا کرو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے  

سوره نمبر  ٧، الاعراف، آیت نمبر ١٨٠

وَلِلّهِ الأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُواْ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَآئِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا

o كَانُواْ يَعْمَلُونَ

ترجمہ :

الله کے بہت اچھے نام ہیں اور ہم سب کو الله کو اسکے ناموں  سے یاد کرنا چائیے اور انکی دوستی چھوڑ دو جو اسکے ناموں سے کفر کرتے ہیں اسکی سزا انکو ملیگی  

    تبصرہ :

ہر کسی شخص کو یہ یاد رکھنا چائیے کہ جب بھی کوئی ضرورت پیش اسکی درخواست الله تعالہ سے ہی کرنا چائیے. الله سب سے بڑے ہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والے بھی ہیں وہ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں د عا کے سلسلے میں کچھ احادیث نیچے دی گئی ہیں : الله کے نبی (ص) نے فرمایا :

·      "د عا مانگنا عبادت ہے" (ترمذی، ابو داود)

·      " د عا ئیں عبادت کا دل ہیں " (ترمذی)

·      حضرت سلمان فارسی کی روایت ہے کہ الله کے رسول نے فرمایا " موت کا وقت کوئی نہیں بدل سکتا لیکن د عا موت کو بدل سکتی ہے " (ترمذی)

·        " جب کوئی بندہ الله سے کوئی ضروررت کی درخواست کرتا ہے الله یا تو اسکی وہ ضرورت پوری کرتا ہے یا اس پر کوئی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتا ہے " (ترمذی)

·       حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ الله کے نبی (ص) نے فرمایا " ہر مسلمان اپنی ضرورت الله سے مانگے یہاں تک کہ اس کو جوتے کا بن ہی چائیے " (ترمذی)

الله سے معافی مانگنا چائیے وہی لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے 

Comments