* اسلام میں بدعت سے بچیں

Contents‎ > ‎7. Important Guidelines & Information‎ >

 مذہب میں بدعت سے بچیں


 

قریب  چودھویں   صدی ہجری  کے شروع میں الله کے رسول کی معرفت اسلام مکممل ہو گیا تھا اسلام کے مکممل

 ہونے کی بات قرآن میں موجود ہے  الله کے رسول نے  قرآن میں جو احکامات ہیں انکی پابندی کی ہے 


سورہ نمبر ٥ ، المایدہ ، آیت نمبر ٣ کا حصّہ  


   الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

 

 

ترجمہ

 

آج ہم نے تمھارے لئے تمہارا دین مکممل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسند کیا

 

  

تبصرہ


اگر  کوئی  شخص  مذہب  میں  یہ  سوچ  کر  اضافہ  کرتا  ہے  کہ  وہ  انعام  کا  مستحق  ہوگا  لیکن  اسکا یہ  عمل  الله  کے  پاس بدعت  

ہوگا  مذہبی  علماء کی  متفققہ   رائے یہ  ہے  کہ  اس  قسم  کی  عبادت  کرنا  جس  کا  ذکر  قرآن  میں نہ ہو  اور  الله  کے رسول  نے 

بھی  عمل  نہ  کیا  ہو  تو  وہ  بدعت  ہے  مثال  کے  طور  پر  اگر  آپ  کو  پیاس  بجھانے  کے لئے  گلاس  میں صاف  پانی  دیا  جائے اور  

کوئی  شخص  اس میں  پانی  کو  حسین  بنانے  کے لئے  تھوڑا  رنگ  ڈال  دے  اور دوسرا  شخص  اس   پانی  کو  میٹھا  بنانے  کے  لئے  

تھوڑی  چینی  ملادے  تو کیا  آپ  سمجھتے  ہیں کہ  گلاس  میں  پانی خالص  رہ   جائے گا      ؟  ہر  گز  نہیں  لہٰذا  آپ  اسلام  کو  پاک و 

صاف پانی  کی  طرح  سمجھ  سکتے  ہیں  اور اس میں  کوئی  اور   عمل  داخل کرنے  کی گنجائش  ہی نہیں ہو سکتی – براۓ مہربانی   

اس بات  کو   ذہن  میں  رکھیں کہ بدعت اسلام میں   حرام  ہے  اور اسکی سخت سزا رکھی گئی  ہے   کچھ  ایسے  عمل  مذہبی ما ن  

کر   کئے جاتے   ہیں  وہ  نیچے     دئے گئے  ہیں   -

الله کے رسول کی سالگرہ   منانا ، شب معراج، شب  برات، شعبان  کی پندرویں  رات کو  قبرستان  جانا ، مرنے والے 

کے  لئے  قرآن  خوانی  کرنا  ،     میت  کے گھر  دانوں پور کلمہ پڑھنا ،  سوم ،  چالیسواں  یا برسی  منانا ، اور دلہن  کے  روانگی  

کے  وقت  اس کو  قرآن کے نیچے  سے لے جانا    ( ان کے علاوہ  کچھ اور بھی ہیں )

مندرجہ  بالا  اعمال  کو  کرنے  سے  پہلے  یہ  سنجیدگی  سے  سوچیں  اور خود  فیصلہ  کریں – کیا یہ اعمال  بدعت ہیں  یا  نہیں  ؟ 


سورہ نمبر ١٠٨ –الکوثر ، آیت نمبر ١ اور ٢  

 

 o إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ

  o فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ

ترجمہ

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے -  تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو  

 

تبصرہ

 

جب یہ سورہ نازل ہوا اس وقت الله کے نبی کو  بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا  تھا   مکہ میں لوگ منفی  رویہ  رکھتے تھے

 

 

وہ نہ صرف  ان  باتوں پر اعتراض کرتے تھے بلکہ ان لوگوں کو بہت تنگ کرتے تھے جنھوں نے اسلام قبول کر لیا

 

 

تھا  یہ وقت نبی صلی علیہ و سلم پر بڑا سخت تھا  اور وہ  اداس ہو جایا کرتے تھے الله نے نبی سے یہ فرمایا کہ آپ

 

 افسردہ نہ ہو جایا  کرئے کیونکہ ہم نے آپ کو  کوثر عطا فرمائی ہے ( کوثر الله کے رسول کی جنّت میں ایک نہر ہے جو 

 

پھر ایک حوض میں جا کر مل جاتی ہے ) آخرت میں جب لوگ پیاسے ہو جاینگے  تو  الله کے   اس بات کا یقین ہے 

 

کہ مومن ایک بار یہ پانی  پی لگا اس  کی پانی کی پیاس ہمیشہ کے لئے دور ہو جائے گی  کچھ  پیروکار جو حوض کوثر 

 

کے قریب پانی کا  انتظار کر رہے ہونگے  فرشتے انکو وہاں سے ہٹا رہے ہونگے الله کے نبی فرشتوں سے پوچھینگے  کہ 

 

ان کو  کس جرم میں ہٹا رہے ہیں  جواب ملے گا  " یہ وہ لوگ ہیں جن ہو نے آپ کے    لائے ہوئے  دین میں 

 

تبدیلیاں کیں تھے

 

 کے نبی بھی ان پیروکاروں سے کہیں گے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں 

 

(بخاری، مسلم، احمد، ابوداود، ابن ماجہ) 

 

 

 

Comments