* مرد اور عورتیں لباس سے پاکی کی حفاظت کریں


مرد اور عورتیں لباس   سے پاکی کی حفاظت کریں 

 

 سوره  نمبر ٧، الاعراف ، آیت نمبر ٢٦ اور ٢٧ 



يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَىَ ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَo

يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاء لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَo

 

ترجمہ  :

 

اے بنی آدم ، ہم نے تم پر لباس  نازل کیا ہے  کہ تمھارے جسم کے قابل شرم حصّوں کو ڈھانکے اور تمھارے لئے  جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو  - اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ الله کی نشانی میں سے ایک نشانی ہے شاید کہ اس سے لوگ سبق لیں – اے بنی آدم  ایسا نہ ہو کہ شیطان  تم کو پھر سےاس فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمھارے والدین کو جنّت سے نکلوایا تھا  اور ان کے لباس ان پر سے اتر وا دے تھے  تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے وہ  اور اس کے ساتھ تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سر پرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے    

 

 

 سوره نمبر ٢٤، النور ، آیت نمبر ٣٠  



 

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ

o خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ

 

 

ترجمہ  :

 

اے نبی ، مومن مردوں سے کہو ، کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں  یہ ان کے لئے پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں الله اس سے با خبر ہے 

 


 سوره نمبر ٢٤، النور، آیت نمبر ٣١ 

 


وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاء بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاء بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاء وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo

 

ترجمہ  :

                                            

اے نبی ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں   بچا  کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اسکے جو خود  ظاہر ہو جاۓ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنی ڈالے رہیں اور اپنا بناؤ  سنگھار نہ ظاہر کریں  مگر ان کے سامنے جیسے   شوہر ،  باپ،  شوہر کے باپ ،  اپنے بیٹے ،  شوہروں کے بیٹے  ،   بھائی ،  بھائیوں کے بیٹے ،   بہنوں کے بیٹے،   اپنے میل جوڑ کی عورتیں ، مملوک  (لونڈیاں )،  زیر دست مرد جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں،  اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں  اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی   ہوئی  نہ چلا  کریں کے اپنی زینت جو چھپا رکھی ہیں  اسکا لوگوں کو علم  ہو جاۓ اے مومنوں تم سب ملکر اللہ سے  توبہ کریں توقع ہے کہ فلاح پاؤگے       

 

 

سوره نمبر ٣٣، الاحزاب ، آیت نمبر ٥٩   



يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًاo

 

 

ترجمہ  :

 

 


اے نبی ، اپنی  بیویوں، بیٹیوں اور اہل  ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادر کے پلو لٹکا لیا  کریں اور یہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ پہچان  لی جاہیں  اور نہ ستائی جائیں  الله غفور رحیم ہیں 

 

تبصرہ  :

جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا، تو شیطان نے آدم کے سامنے جھکنے سے منع کیا. اور پھر  وہی تھا، جس نے آدم اور حوا  کو نیچا دکھایا

الله نے سوره اعراف کی آیت نمبر ٢٠ سے ٢٢ تک  میں فرمایا  :

شیطان نے ان کو بہکایا  تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا  " تمہارے رب نے تمھیں جو اس درخت سے روکا ہے  اس کی وجہ کچھ نہیں کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمہیں ہمیشہ رہنے والی زندگی حاصل   نہ ہو  جاۓ اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خوا ہ  ہوں اس طرح دھوکا  دے کردونوں کو  رفتہ رفتہ اپنے راستے پر لے آیا  آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا  تو ان  کے  ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنّت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے  انہیں  پکارا " کیا میں نے تم کو اس درخت سے نہیں روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے  "   

لہذا قرآن نے مرد اور عورتوں کو ایک  ایسا لباس پہننے کی ہدایت کی ہے جس کی وجہ سے جسم کے نجی حصّے پوری طرح محفوظ رہیں  ، ان آیات میں پیغام صرف مسلمانوں کے لئے  ہی نہیں ہے  بلکہ پوری انسانیت کو ہدایت دی گئی   ہے   جب  ایمان والے  الله  کی رہنمائی سے غفلت   برتتے  ہیں اور قرآن کے پیغام سے دور ہوجا تے ہیں تو وہ  شیطان کے رحم و کرم پر ہو جاتے ہیں  پھر شیطان انکو غلط راستے پر لے جاتا ہے . لہذا لازمی ہے کہ مومنوں کو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق پاکی والا  لباس پہننا چاہیے

نظریں نیچی رکھنے کے بارے میں الله  نےجو   فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان غیر ضرروری اشیاء یا ایسی مخلوق جس پر نظر ڈالنے کے لئے منع کیا گیا ہے ان کو  آزادانہ طور پر  نہ دیکھےاگر اچانک نظر پڑھ جاتی ہے تو   جلد نظر کو ہٹالے- لیکن کچھ ایسے حالات ہوتے ہے جس  موقع پر عورت پر نظر ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے مثال کے طور پر   حضرت مغیرہ بن شعبہ  نے الله کے رسول (صلی الله و علیہ و سلم )سے فرمایا کے میں نکاح کرنے والا ہوں تو آپ نے فرمایا   کہ اس پر ایک نظر ڈال لو ، یہ تم     دونوں  کے درمیان محبّت میں اہم کردار ادا کرے گا  (ابن ماجہ ،جلد دوم  حدیث نمبر ١٨٦٥ )  

  قرآن کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین  اپنا  بناؤ  سنگھار نہ ظاہر کریں  مگر ان کے سامنے جیسے   شوہر ،  باپ،  شوہر کے باپ ،  اپنے بیٹے ،  شوہروں کے بیٹے  ،   بھائی ،  بھائیوں کے بیٹے ،   بہنوں کے بیٹے،   اپنے میل جوڑ کی عورتیں ، مملوک  (لونڈیاں )،  زیر دست مرد جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں،  اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو مسلم خواتین  کے لئے ایک بڑے  دوپٹے  کا حکم آیا   ، جس کا مطلب تھا کہ سر،  سینہ اور پیٹھ کو ڈھاکا  جائے  - مسلم عورتوں  کے لئے جب یہ حکم آیا  تو   حضرت عائشہ کے  بیان کے مطابق کہ  جب  لوگوں نے الله کے  حکم کو  حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا، وہ فوری طور پر اپنے گھروں میں گئے   اور اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں  کے سامنے   ان  آیات کی تلاوت کی ، اگلی صبح   عورتیں جو نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس     پہنچی  دوپٹے میں لپٹی ہوئیں تھیں (ابن کثیر  جلد نمبر٣ ورق   نمبر٢٨٤ )-   خواتین کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اپنے پیروں کو زمین پر پٹک کر نہ چلیں  اس طرح  چلنے سے ان کے چپھے ہوئے زیورات  دکھنے لگیں گے     

نتیجہ  :

اسلامی علیما کی متفقہ رائے  کے  مطابق حجاب کے وسیع معنی ہیں جیسے رازداری ، پاکی اور اخلاقیات، قرآن میں پردہ کا جو لفظ  آیا ہے اسکو حجاب نہیں خمار کہا گیا ہے     

اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ مرد اور عورت کو کس قسم کی لباس پہننا چاہئے؟

      مردوں کے لئے ستر ناف سے لے کر ٹخنوں تک  اور خاتون  کے لئے پورا جسم  صرف چہرہ اور پنجوں کو چھوڑ کر یہ بہت اہم ہے کہ ستر کا خاص دھیان رکھا جاۓ نہ صرف دوسروں کے سامنے بلکہ اکیلے میں بھی -

 موجودہ دنیا میں مرد کا  لباس پوری  طرح سے   جسمانی  ضرورت کو پورا کرتا  ہے لیکن جس  قسم کے کپڑے  خواتین کے استمعال میں ہیں وہ الله کے فرمان کے  پوری طرح   خلاف ہیں. اصل میں، یہ لباس خواتین کے جسم کو  مکمل طور پر نہیں ڈھکتا  اور نہ  ان کی  ذاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے  ،  پچھلے  دنوں میں عورتیں  مشرقی اور مغربی ممالک میں مختلف   کپڑے پہناکرتی  تھیں  ان    دنوں مشرقی ممالک میں عورتیں اپنے جسم کو مہذب طریقے  سے  ڈھکنےکو زیادہ اہمیت دیتی تھیں  -  حال  میں مغربی اثر و رسوخ  کو  مشرق کی نوجوان نسل نے  خوشی سے قبول کیا. بدقسمتی سے مسلم برادری کی اکثر خواتین  بھی  اسی  اثر و رسوخ کے تحت آ گئیں – اور ان حالات میں  عورت کا لباس مشرق اور مغربی ممالک میں یکساں ہو گیا ہے . یہ بھی بہت  بڑی  بدقسمتی ہے کہ مومنوں نے اللہ کے  حکم کو  نظر انداز کر دیا   اور  غیر مسلموں  کے راستے پر چلنے لگے -یاد رکھیں کہ مومن مرد کے لئے ریشم کا لباس اور سونے کے زیورات  پہننا ممنوع  ہے جبکہ ایک مومن خاتون کے لئے ریشم اور سونے کے زیورات پہننے کی اجازت دی گئی ہے 

  عورتوں کے لباس کے بارے اگر   ہم الله کے احکامات پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو خواتین   کے لئے   کپڑے پہننے کا   سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ  وہ ڈھیلے  کپڑے پہنیں  تاکہ جسم کے  الگ الگ  حصّوں کی نمائش نہ ہو . اور اگر ضرورت پڑنے پر  خاتون  کو  باہر جانا ہو   تو اسے ایک سادہ بڑا  دوپٹے  کا استعمال کرنا چاہئے  جس کی مدد سے  سر، سینہ اور پیٹھ    ڈھک  جاۓ . اس طرح  وہ مخالف جنس سے تحفّظ حاصل کر سکتی ہیں  موجودہ دور میں مسلم لڑکیوں اور خواتین کو آزادانہ  طور پر کام کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے لہٰذا اسلامی طریقے پر عمل کر کے کام  کرنے  جاتی ہیں تو ہر طرح محفوظ رہ سکتی ہیں  یہاں یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں جو احکامات نازل ہوئے ہیں ان پر عمل کرنا ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آخرت میں جواب دہ ہونا پڑیگا        

 

Comments