* جانور کی قربانی کریں

Contents‎ > ‎7. Important Guidelines‎ >
 جانور کی قربانی کریں


  سوره نمبر ٢٢، الحج ، آیت نمبر ٣٤ 


وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ

o فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ



ترجمہ  :


ہر امّت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قائدہ مقرّر کر دیا ہے  تاکہ لوگ جانور پر الله کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشیں ہیں پس تمہارا معبود صرف ایک الله ہی ہے  اسی کے تم  مطیع  اور فرمابردار  بنو     اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو    


  سوره نمبر ٢٢، الحج ، آیت نمبر ٣٧ 

 

لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ   

 

   : ترجمہ  

 

نہ ان کے گوشت الله کو پہنچتے ہیں اور نہ انکا خون  مگر تمہارا  تقویٰ  پہنچتا ہے اسی طرح الله نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے  تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر  اسکی  تکبیر کہو یر نبی نیک کاروں کو خوشخبری سنا دو

 

تبصرہ  :

قربانی سبھی پہلے مذاہبوں میں اللہ کی عبادت کا ایک لازمی حصہ رہا   ہے. توحید  کی وجہ سے   اللہ نے خود کے علاوہ  کسی دوسرے کے لئے قربانی منع کی ہے  

 قربانی  اللہ  قبول کرتا  ہے اگر یہ تقویٰ  اور اخلاقیات کے ساتھ ہو . اگرچہ قربانی الله  کی علامت ہے، لیکن یہ صرف  اسی صورت   میں قبول ہوتی ا ہے اگر یہ تقویٰ  کے ساتھ ہو 

زبانی طور پر قربانی کے وقت  اس بات کو تسلیم کریں   کہ جانور کی قربانی   واقعی الله  کے لئے ہے  اوراسی سے  تعلق رکھتی ہے  

براہ مہربانی نوٹ کریں کہ سوره  الحج  کی  آیات 36 اور 37 میں بیان کردہ قربانی صرف حج کے موقع پر نہیں ہے اور یہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک عام حکم ہے (مرد اور عورت) جو زکوۃ نصاب کے   مالک ہیں. انہیں اللہ  کا  شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ وہ روحانی طور پر ان لوگوں کو شامل  ہو سکتے  ہیں جو حج  کو انجام دینے کے لئے مکہ جاتے ہیں.

صحیح بخاری کے احادیث

کے   ایک روایت کے مطابق ابن عمر نے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال تک رہائش کے دوران  اور ہر سال قربانی کی

 (1)    جلد نمبر ٧، کتاب نمبر ٦٨، حدیث نمبر ٤٦٧ 

حضرت ال  برا    نے بیان کیا کہ  میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ  دیتے  سنا کہ ہم عید کے دن سب سے پہلے نماز ادا کریں اور پھر  قربانی  ادا کریں ،  جو کوئی بھی ایسا عمل کریگا  وہ ہماری  روایت کی پیروی کرے گا   اور جو شخص اپنی قربانی کو نماز پڑھنے سے قبل ذبح کرتا ہے، وہ  اپنے خاندان کو  گوشت پیش کریگا    قربانی نہیں 

 (2) جلد نمبر ٧، کتاب نمبر ٦٨، حدیث نمبر  ٤٧٦ 

 سلامہ بن  اقوا  سے  روایت ہے کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جو بھی قربانی کرتا ہے  وہ تین دن سے زیادہ    گوشت کو نہ رکھے" جب  اگلا سال آیا  تو  لوگوں نے کہا "اے اللہ کا رسول! کیا ہم  ویسا  ہی کریں جیسا  گزشتہ سال ہم نے کیا؟" انہوں نے  فرمایا  تم  کھاؤ   اور دوسروں کو کھلاؤ  اور گوشت کو محفوظ بھی کر لو تاکہ ضرورت مندوں کے  لئے مدد ہو سکے

 یہ واضح ہے کہ چونکہ الله کے رسول نے قربانی کی ہے اور اس سنّت کو پوری دنیا کے مسلمان تسلیم کرتے ہیں  اب مسلہ یہ ہے کہ قربانی واجب ہے یا سنّت  -  ابراہیم  نکھائی، امام ابو حنیفہ ، امام مالک  اور امام ابو یوسف  کا خیال ہے کہ قربانی  واجب ہے  دوسری طرف  امام  شافعی اور احمد بن حنبل  کے خیال سے یہ سنّت ہے     


Comments