* اسلام میں پاکی اور صفائی کا حکم

اسلام میں پاکیزگی اور صفائی کا حکم 

سوره نمبر ٧٤، المدثر  ، آیت نمبر  آیت نمبر  ١ سے ٥         

وَالرُّجْزَفَاهْجُرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ قُمْ فَأَنذِرْ o يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ

ترجمہ :

او : اوڑھ کر لیٹے رہنے والے- کھڑے ہو جاؤ ،  اپنے رب کی بڑائی بیان کرو،  پاکیزگی رکھو،  اور گندگی سے دور رہو  

تبصرہ :

یہ احکامات حضرت جبریل کے ذریعے الله کے حکم سے نہ صرف نبی اکرم کے لئے نازل ہوئے بلکہ یہ پوری امّت کے لئے آئے ہیں پہلی وحی جو غار حرا میں آئی تھی اس کے بعد عرصے تک کوئی وحی نہیں آئی اس وقفہ کے بعد  یہ آیتیں دوسری وحی کے ذریئے نازل ہوئی – نبی اکرم (صلی الله و علیہ و سلم ) نے دیکھا کہ ایک تخت آسمان سے لٹکا ہوا ہے اور اس پر وہی فرشتہ موجود ہے آپ بیحد گھبرا گئے اور گھر آکر اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے کہا کہ مجھے اڑھا دو – جب آپ لیٹ گئے تو حضرت جبریل کے ذریئے سوره مدثر کی  یہ پانچ آیتیں نازل ہوئیں

ان آیتوں کے ذریئے بہت اہم احکامات کا نزول ہوا –

  • آپ کو مشن دیا گیا کہ اب لوگوں کے پاس جاکر اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کریں
  • اسی کے ذریئے یہ بھی لوگوں کو کہیں کہ اسی رب کی عبادت کرنا ہے
  • جسم کو اور کپڑوں کو ہر قسم کی گندگی یعنی پیشاب، فضلہ، اور دیگر گندگی سے پاک رکھنے کا حکم آیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ  فرض عائد ہو گیا کہ وہ اپنے رب کی عظمت کو بلند کریں  اور عام طور پر یہ اعلان کریں کہ اس کائنات میں عظمت صرف اکیلے اللہ کے لئے ہے اس وجہ سے" اللہ و  اکبر " کا  نعرہ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا  سب سے زیادہ  اور اہم علامت  بن گیا  ہے. یہاں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا  تھا کہ وہ عظیم مشن کے  فرائض انجام  دیں . یہ واضح تھا کہ یہ شہر جس میں اس مشن کو انجام دینے کا حکم دیا گیا تھا، شرک کا مرکز تھا. مکہ کا شہر مذہبی عربوں کے لئے مقدس ترین مقام بن گیا تھا. یہ واضح تھا کہ ایسی جگہ میں، جو شخص شرک کے اس مرکز میں خدا کی وحدانیت  کا اعلان کرتا ہے، وہ خطرات سے بھرا ہوگا . لیکن اللہ کی عظیم عظمت  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل  میں بھر گئی تھی اس لئے انہوں نے کسی بھی ہچکچاہٹ کا سامنا نہیں کیا اور اکیلے ہی اس مشن کی زممداری اٹھائی 

  ان دنوں لوگوں کے پاس پاکیزگی اور صفائی کی کوئی اہمیت نہیں تھی الله کے حکم کے مطابق رسول الله پر یہ بھی ذمداری تھی کہ لوگ اپنے کپڑے اور جسم کو گندگی سے پاک رکھیں الله کے رسول نے یہ بھی بتایا کہ کپڑوں کی اور جسم کی پاکی اور روح کی پاکی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے" اسلئے ایک پاک روح ناپاک کپڑوں اور ناپاک جسم کے ساتھ نہیں رہ سکتی الله کے نبی نے لوگوں کو  صفائی اور پاکی رکھنے  کے بارے میں  ایسی تعلیم دی کہ آج کی تہذیب یافتہ ممالک میں اسطرح کی پاکی رکھنا موجود نہیں ہےیہ بہت اہم بات ہے کہ صفائی اور پاکیزگی اسلام کا بڑا فریضہ  ہے جسمانی صفائی اور روحانی صفائی پر اسلام بہت زور دیتا ہے دو طرح کی  جسمانی صفائی ہوتی ہے ایک تو انسان کے جسم سے تعلق رکھتی ہے دوسرے اس کے ماحول یعنی گھر، پانی، سڑکیں اور عام جگہ-

اہل ایمان کے لیے یہ حکم ہے وہ پیشاب یا فضلہ صاف کرنے کے لئے اپنے جسم کے ان حصّوں کو پانی سے صاف کرے اگر عبادت جیسے نماز یا قرآن کی تلاوت کے لیے جاۓ تو وضو کر کے جاۓ صفائی کے لئے غسل کا بھی طریقہ الله کے رسول نے بتایا ہے جسمانی صفائی کے علاوہ اہل ایمان کو اپنے گھر ، گھر کا ضروری  سامان، گھر کے اطراف کا حصّہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے  جسمانی صفائی کے علاوہ اسلام روحانی صفائی کی بھی تعلیم دیتا ہے ایک رب کی عبادت ، خالص الله کے لئے ،  الله کے ساتھ کسی کو شریک نہ  کرنا  اور دولت کی محبت سے دور رہنا یہ سب باتوں سے روح کو پاک رکھنے میں مدد ملتی ہے بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی رہائش کی جگہ پر گندگی زیادہ ہوتی اور  حفظان صحت کے متضاد حالات ملتے ہیں  آج کے دور میں بھی الله کے رسول کی تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے اور اس لئے اس  پر عمل کرنا بہت ضروری ہے  

Comments