* جمعہ کا دن اور عبادت

جمعہ  کا دن اور عبادت

سورہ نمبر ٦٢ ، سورہ جمعہ آیت نمبر ٩ اور ١٠ 

 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿62:9﴾ 

 

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿62:10﴾ 

 

 

ترجمہ  :

 

اے ایمان والوں ! جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو الله  کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو یہ تمھارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو – پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور الله  کا فضل تلاش کرو  اور الله  کو کثرت سے یاد کرتے رہو شاید کہ   تمہے     فلاح نصیب ہوجائے 

 

تبصرے:

  الله  تعالی کا حکم ہے کہ  جمعہ کی نماز ہر بالغ مرد پر  فرض ہے . یہ ہفتہ وار نماز  الله  نے محمّد (ص) کی امّت کو  عطا کی ہے . یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ نماز کا اجتماع  بڑا ہونا چاہئے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام مختلف علاقوں کے لوگ  جمع ہوکر ایک جگہ  نماز ادا کریں جمعہ کی جماعت کا قیام ابتدا ہی   میں   نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پہچنے  کے بعد کیا تھا .  مکہ چھوڑنے کے بعد وہ پیر کو قبا کے مقام پر پہنچ گئےتھے  اور وہاں  چار دنوں تک  رہے. پانچویں دن، جو جمعہ تھا،  انہوں نے  جمعہ کے روز جمعہ کی نماز بنی ہاشم کی جگہ  پڑھا . اس نماز کے لئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ کی نماز کا  وقت سورج کے ڈھلنے کے  بعد مقرر کیا .

 

اسلام کے آنے سے پہلے جہالت کے دنوں میں اس دن کو عر ابہ کہا جاتا تھا  اسلام آنےبعد کےدن کے بدلے  جمعہ کے دن کا اعلان کیا گیا . عرابہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ، جمعہ کادن  سب سے بہترین دن ہوتا ہے

  "ہم  آخری امّت میں آئے  ہیں لیکن فیصلہ کا دن ہمارے لئے سب سے پہلے ہوگا . الله نے  فرمایا ہے  کہ جمعہ کا دن الله کی تعریف  بیان کرنے کا دن  ہے  ،  یہود اور عیسائی ہمارے پیچھے آئیں گے  یہود کے لئے ہفتے کا اور عیسائیوں کے لئے اتوار کا دن مقرّر ہے  (بخاری اور مسلم)

الله کے رسول صلی الله وعلیہ و سلم نے فرمایا کہ جمعہ کا دن بڑا افضل ہے اس دن حضرت آدم کی تخلیق ہوئی تھی اسی دن وہ جنّت میں داخل ہوئے اور اسی دن وہاں سے نکلے –اسی دن حشر کا میدان بھی قائم ہوگا ( مسلم، ابوداود، ترمزی،  نسائی )

مسلم اور  مسند احمد میں ذکر ہے کہ نبی صلی الله و علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری جگہ  کوئی دوسرا  شخص  نماز کی قیادت کرے اور میں ان مسلمانوں  کے گھروں کو جلا دوں جو لوگ جمعہ کی نماز میں شریک نہیں ہوتے -        

 ایک مستند حدیث میں نبی صلی الله و علیہ و سلم نے فرمایا کہ " جو شخص بغیر  کسی عذر      کے تین جمعہ  کی نماز قضا کرے اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے کہ وہ فاسق ہے ( ابو داود، ترمزی، نسائی اور ابن ماجہ )

 

جمعہ نماز اس شخص کے لئے ضروری نہیں ہے   جو  بیمار ہو، جو شخص بوڑھا  یا کمزور ہو اور  مسجد تک  نہیں چل سکتا  اور  وہ شخص جو  اندھا ہو- جمعہ کی نماز عورتوں کے لئے ضروری نہیں ہے  وہ اس کے لئے پابند نہیں ہیں تاہم اگر وہ آسانی سے آ سکتی ہیں اور مسجد میں انکا الگ سے انتظام ہو تو وہ جمعہ کی نماز میں شریک ہو سکتی ہیں اگر گھر میں رہ کر نماز ادا کرتی ہیں تو ظہر کی نماز ادا کرے     .

ہر مسلمان کو جمعہ اور جمعرات کے درمیان رات سے جمعہ کے لئے تیاری کرنی چاہئے.  اسے اپنے کپڑے صاف کر کے  تیار رکھنا چاہئے. اگر اس کے گھر میں کوئی خوشبو نہیں ہے تو، اگر ممکن ہو تو اسے  حاصل کرلے نبی صلیالله  و  علیہ وسلم نے فرمایا، "جو بھی جمعہ کو غسل کرتا ہے  اپنے آپ کو پاک اور  صاف  کرتا ہے ا پنے گھر کے خوشبو کے ساتھ خود  خوشبو کا استمعال کرے  پھر نماز کے لئے جاۓ تو اس کے دو جمعہ کے درمیان صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں " ( بخاری)   

 

حضرت ابو ہریرہ سے  روایت   ہے کہ نبی صلی الله  و    علیہ وسلم نے فرمایا، "  جمعہ کی نماز سے پہلے  فرشتے مسجد کے دروازے پر   کھڑے ہوتے ہیں اور   مسجد میں  آنے والے افراد کے نام سلسلے وار  لکھتے ہیں. اسی فہرست کے حساب سے جمعہ کی نماز میں شرکت کرنے والوں کو  الگ الگ جانوروں کی قربانی کے حساب سے ثواب ملتا ہے جب خطبہ کے لئے امام آتا ہے تو اس وقت فرشتے اپنا دفتر بند کر دیتے ہے اور خطبہ سنتے ہیں  "   صحیح بخاری13:51

  حضرت ابوہریرہ سے  روایت ہے کہ  رسول   الله    نے فرمایا، "جمعہ  کے دن  ایک ایسا  گھنٹہ ہے اور اگر مسلمان اس وقت جو د عا  کرے گا وہ پوری ہوگی

 

یا  .وہ  وقت شروع ہوتا ہے خطبہ کے آغاز سے ختم  ہونے تک

 

عصر کے بعد مغرب سے پہلے

 

 علمہ  کے ایک بڑے گروہ نے اس  دوسری رائے کو ترجیح دی ہے اور بہت سی ا حادیث ہیں جو اس رائے کی حمایت کر تی  ہیں.

 

جمعہ کی نماز

دو  رکعت سنّت ، فرض سے پہلے

اس کے بعد دو رکعت فرض امام کے پیچھے

 فرض کے بعد دو رکعت  سنّت  یا

فرض کے بعد چار رکعت سنّت

جب  الله  کے رسول صلیالله و  علیہ و  سلم خطبہ دے رہے تھے تو ایک شخص داخل ہوا تو نبی نے فرمایا کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں- تو حضور نے فرمایا دو رکعت سنّت پڑھ لو (صحیح بخاری ١٣ : ٥٢ )

اسلامی سٹی کینیڈا کے شہر ٹورانٹو  کے امام نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ جمعہ کی فرض نماز ادا کرنے کے بعد دو رکعت یا  چار رکعت سنّت ادا کرنا ہے - ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول الله   نے فرمایا  کہ جو کوئی  بھی  جمعہ کے فرض کے بعد نماز پڑھے چار رکعت پڑھے  ( مسلم، ابو داود ، ترمزی)  

خطبہ کیسے دیا جاتا ہے

  

  جمعہ کی فرض نماز سے پہلے خطبہ دینا ایک مذہبی اصول ہے. چونکہ خطبہ  نماز سے قبل دیا  جاتاہے اسلئے  اس کو   شروع ہونے سے  قبل  مسلمانوں کو مسجد میں آنا چاہیے خطبہ شروع ہونے سے قبل اذان دی جاتی ہے خطبہ   دو مختصر تقریروں پر مشتمل ہے، ان دو تقریروں کے درمیان مختصر وقفہ ہوتا ہے

 

جمعہ کا خطبہ  الله   کی تعریف کے ساتھ شروع ہوتا  ہے اور اس کے ساتھ نبی  صلی الله و  علیہ  وسلم پر درود و سلام بھی شامل ہیں  خطبہ میں  کم سے کم ایک قرآن کریم کی آیت  اور ایک  حدیث بھی شامل ہو  خطبہ کا  موضوع ہمارے  حالت سے متعلق ہونا چاہئے.

جمعہ کے خطبہ  کا مقصد مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کے بارے  یاد دلانا  اور برائی کو روکنے اور  ان کی زندگیوں میں اچھائیوں کو لانا ہے دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی  حوصلہ افزائی ہو . لہذا یہ  تتقریر  مقامی زبان میں ہونا چاہئے الله نے  یہ بھی فرمایا ہے الله  نے  قرآن میں یہ فرمایا ہے کہ اس نے ہر قوم کے پاس اپنا ایک پیغمبر بھیجا ہے اور ان کے ذریئے اپنا پیغام مقامی زبان میں ہی بھیجا ہے (قرآن  ٤ : ١٤ ) .

پہلے خطبہ کے بعد خطیب ممبر پر  کچھ وقفے کے لئے بیٹھ جائے  اور اس کے بعد دوسرا خطبہ الله کی تعریف سے  شروع کرے  خطیب الله  سے معافی   مانگے  رحم کی درخواست کرے  نبی صلی الله  و علیہ و سلم  اور ان کے خاندان  اور ساتھیوں کے لئے د عا  کرے اور  کئی دعاؤں کے ساتھ خطبہ دیں  اس کے بعد یہ آیت پڑھے  ( ١٦ : ٩٠ )  

 

إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

Comments