* نکاح کرنے کا طریقہ اور مہر کی ادائیگی وقت پر کریں

Contents‎ > ‎7. Important Guidelines‎ > 

  نکاح کا طریقہ اور مہر کی ادائیگی وقت پر  کریں 

وره نمبر ٤، النساء، آیت نمبر ٢٤ 

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاء

ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ

أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ

o عَلِيمًا حَكِيمًا

ترجمہ :

وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جو دوسرے کے نکاح میں ہوں مگر وہ جو (جنگ میں ) تمھارے قبضے میں آجائیں یہ الله کا قانون ہے جس کی پابندی تم  پر لازم کر دی گئی ہے ان کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح مال خرچ کر کے ان سے نکاح کر لو بشرطیکہ نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو اور جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو تو ان کے مقرّر کے ہوئے  مہر  بطور فرض ادا کر دیا کرو اگر مقرّر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر کی رقم میں کمی بیشی کر لو تو تم پر کوئی گناہ نہیں  الله علیم اور دانا ہے 

سوره نمبر  ٤، النساء ، آیت نمبر ٣،   

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى

وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى

o أَلاَّ تَعُولُواْ

ترجمہ :

اگر تم کو اس بات کا خوف ہے کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان کے علاوہ جو اور عورتیں تم کو پسند ہے  ان سے دو دو ، تین تین ، یا چار چار  نکاح کر لو اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر  ایک ہی بیوی کرو یا ان کو اپنی زوجیت میں لاؤ جو تمھارے قبضے میں ہیں اس سے تم بے انصافی سے بچ جاؤگے

سوره نمبر ٤، النساء ، آیت نمبر  ٤   

o وَآتُواْ النَّسَاء صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا

ترجمہ :

اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ حصّہ معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو

سوره نمبر ٤، النساء آیت نمبر ١٩   

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُواْ بِبَعْضِ

مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ

o فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيراً

ترجمہ :

اے ایمان والوں ! تم کو جائز نہیں ہے کہ تم ذبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے ان کے مہر کا کچھ حصّہ لے لو جو تم انکو دے چکے ہو انہیں (گھروں) میں مت روکنا  اگر وہ کھلے طورپر بدکاری کی مرتکب ہو تو بات الگ ہے –اگر وہ تمھیں ناپسند ہوں  تو انکے ساتھ اچھے سے رہو ایک چیز تمہے پسند نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ الله نے اس میں تمھارے لئے بھلائی رکھ دی ہو

سوره نمبر ٢، البقر، آیت نمبر ٢٣٥      

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ

عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا

مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا

o أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ

ترجمہ :

تم پر اس کی کوئی زممداری نہیں کے کسی عورت کو نکاح کا پیغام دو یا دل میں مخفی رکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ،  الله تم سب کے اعمال سے با خبر ہے عدّت کے زمانے میں ان بیوہ عورتوں کو منگنی کا  ارادہ اشارے میں ظاہر کردو  خواہ دل میں چھپائے رکھو دونوں میں کوئی مضائقہ نہیں الله جانتا ہے انکا خیال تمھارے دل میں آئےگا ہی – مگر دیکھو خفیہ عہدو پیمان نہ کرنا  اگر کوئی بات کرنی ہو تو معروف طریقه سے کرو اور نکاح میں باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک عدّت پوری نہ ہو جاۓ خوب سمجھ لو کہ الله تمھارے دلوں کا حال جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور جان لو کہ الله بڑا برد بار اور معاف کرنے والا ہے

سوره نمبر ٤، النساء آیت نمبر ٢٢ اور ٢٣   

 وَلاَ تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاء

سَبِيلاً

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ

الأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ

وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم

بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُواْ بَيْنَ الأُخْتَيْنِ

o إَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا

ترجمہ :

اور جن عورتوں سے تمھارے باپ نے نکاح کیا ہے ان سے ہر گز  نکاح نہ کرنا  مگر  جوپہلے ہو چکا سو  ہو چکا حقیقت میں یہ بے حیائی کا عمل ہے نا پسندیدہ ہے اور بد چلن ہے تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں ، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنہوں نے تمہے دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمھاری گودوں میں پرورش پائی اگر تم نے نکاح کیا اور مباشرت نہ کی ہو (ان کو چھوڑ دیا ہو) تو ان کی لڑکیوں سے نکاح کر سکتے ہو اس پر کوئی حرج نہیں – تم پر حرام ہے تمھارے بیٹوں کی بیویاں اور ایک ساتھ ایک ہی وقت میں دو سگی بہنوں سے نکاح کرنا اس سے پہلے جو ہو چکا سو ہو چکا ، حقیقت میں الله بخشنے والااور رحم والا ہے

سوره نمبر ،٥ ، المائدہ، آیت نمبر ٥ کا حصّہ     

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا

آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ

فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ :

وہ محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جو اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھیں بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کرکے ان کے محافظ بنو نہ یہ کہ آزادی کے ساتھ شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیوں کرو اور جو شخص ایمانسے منکر ہوا اسکے عمل ضا ئع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا   

تبصرہ

 ماضی میں، ہم کو ان لوگوں کی محافظ عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی تھی جن کو مقدس کتابیں دی گئی تھیں. موجودہ حالات میں، یہودی اور عیسائی اگرچہ وہ مقدس کتابوں کے مالک ہیں لیکن انھوں نے مکمل طور پر ہدایتوں کو نظر انداز کر دیا ہے انہوں نے بلا تکلّف سور کا  گوشت کھانا اور  شراب پینا شروع کر دیا اور پاکیزگی سے دیر ہو گئے . لہذا مومن کی شادی ان کی لڑکیوں کے ساتھ کرنا اچھا نہیں ہے لہذا مسلم لڑکی کی شادی بھی ان کے لڑکوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس میں  مومنوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کے ایمان کو کھونے کا خطرہ ہے. ( تفسیر مولانا عبدالکریم پاریکھ )

سوره نمبر ٢، البقر، آیت نمبر ٢٢١   

 وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ

أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشِرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ

وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ

o وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

ترجمہ :

تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہے بہت پسند ہو اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرکین سے نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن غلام مشرک مرد سے بہت بہتر ہے اگرچہ وہ پسند ہوں یہ لوگ تمہے آگ کی طرف بلاتے ہیں اور الله اپنی مہربانی سے سے تمہے جنّت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور الله اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت قبول کریں

دارلعلوم دیوبند کا فتوہ

سوال نمبر ١.      

 اگر کسی غیر مسلم نے کسی مسلمان لڑکی سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، تو کیا یہ ہمارے مذہب میں جائز ہے یا نہیں؟ برائے کرم سورہ بقرہ کی آیت نمبر221کے سیاق و سباق میں تشریح کردیں؟

28 Feb, 2009

Answer: 10671

 

 

فتوی: 334=334/م

 

اسلام ایک دین برحق ہے، اس کو قبول کرلینے سے دوزخ کے دائمی عذاب سے خلاصی ہوتی ہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، جنت تک رسائی کا ذریعہ ہے، ان جیسے عظیم مقاصد کے لیے اسلام قبول کرنا چاہیے۔ محض شادی کرنے کی غرض سے اسلام قبول کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند


 

 اسلامی سٹی کناڈا کا فتوہ   

سوال

  جناب مفتی صاحب اسسلام علیکم ،  کوئی غیر مسلم کسی مسلم لڑکی سے اسلام قبول کرکے شادی کرنا چاہتا ہے اس معاملے میں ہمارے مذہبی رہنما کا کہنا ہے کہ چونکہ شادی مقصد ہے اسلئے اسلام قبول کیا ہے تو یہ جائز نہیں ہے براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں ؟

جواب :

بسم الله ہرحمان رحیم.  اسلام قبول کرنے کے بعد بندے کو الله کی ذات پر ، الله کے رسول پر ، آسمانی کتابوں پر اور الله کے بھیجے ہوئے تمام نبیوں پر پورا یقین ہو اور قرآن پاک اور رسول کے احکامات پر وہ پوری طرح عمل کرے .آپ کے سوال کے جواب میں ہم یہ کہیںگے کہ جو شخص اسلام قبول کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے اس کا کردار اچھا ہونا چاہئے اور مذہب کی طرف جھکاؤ ہونا چاہئے عام طور سے نکاح کے لئے جو ضروری باتیں ہے جیسے : مہر کی ادائیگی ،  دونوں طرف سے اجازت، گواہوں کی موجودگی – اگر سرپرستوں کی رضامندی نہ ہو تو یہ نکاح جائز نہیں ہوگا ( ابو داود) لیکن سب شرائط  پوری ہوں تو نکاح ہو جائگا

شکریہ اسلامی سٹی  کناڈا  

تبصرہ 

 مندرجہ بالا فتووں سے واضح ہے کہ کسی بھی شخص کو جو ایمان قبول کر رہا ہے ایک پوری طرح ایمان والا مسلمان بننا لازمی ہے دوسرے الفاظ میں اس کو اسلام کے اقتدار کو قبول کرنے کے بعد ایک حقیقی مسلمان بننا چاہئے اور پھر مذہب کے اصولوں پر صدق دل سے عمل کرے ایک نئے شخص کے لئے اس مشق کو کرنا اور پورے طور سے مسلمان بننا شاید یہ مشکل عمل ہے ان حالات میں اس طرح کی شادیاں کرنے کا معاملہ نازک ہوتا ہے  ظاہر بات ہے کہاس طرح کی شادی کر بعد لڑکی اور لڑکے کے خاندان پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ آنے والی نسل پر بھی منفی اثر ہوتا ہے میرے خیال میں ایسے نوجوان جو اس قسم کی سر گرمیوں میں ملّوث ہیں ان کو صورت حال کی شدّت کو سمجھنا چاہئے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس زمانہ کی نوجوان نسل پر نمایاں فلمیں، چھوٹے سکرین کے سیریلز اور سوشل میڈیا کا گہرا اثر ہے ان اسباب کی بناء پر نوجوان خود کے خاندانوں کے وقار اور اقتدار کو نظر انداز کر  دیتے ہیں اور اپنے دوسرے نوجوان شرکتداروں کی محبّت کو ترجیح دیتے ہیں یہ بڑے افسوس کی بات ہے میرا مشورہ ان تمام نوجوانوں سے ہے کہ یہ لوگ اپنے والدین کی بے لوث محبّت اور بیش قیمت جذبات کی ہمیشہ قدر کریں اور اس قسم کی شادیاں کرنے سے پرہیز کریں                                                                       


Comments