* بیویوں کی حفاظت کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کریں

 

بیویوں کی حفاظت کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کریں

 

 

  سوره نمبر ٤، النساء، آیت نمبر ١٩   

 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن

كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيراً

 

ترجمہ :

 

اےایمان والوں ! یہ تمھارے لئے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کےوارث  بن جاؤ اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے ان کے مہر کا کچھ حصّہ اڑانے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر  کوئی  عورت بد  چلنی کی مرتکب ہو (تو بات اور ہے )عورتوں  کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو  اگر وہ تمھیں ناپسند ہوں ہو سکتا ہے کہ ایک چییز تمھیں پسند نہ ہو مگر   الله نے اس میں بہت   کچھ بھلائی رکھ دی ہو

  

  سوره نمبر ٤، النساء ، آیت نمبر ٣٦ کا حصّہ     

     

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ

أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ

 

ترجمہ :

 

مرد عورتوں پر محافظ ہیں اس بناء پر کہ الله نے ان کو فضیلت دی ہے دوسرے پر اور اس بناء پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعارہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے الله کی نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں  


 تبصرہ  :

حدیث  

 نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "بہترین بیوی وہ  ہے کہ جب تم اسے دیکھتے ہو تو یہ آپ کو بہت خوشی محسوس ہوتی ہے ، جب بھی تم کسی چیزکو پوچھتے ہو تو وہ اطمینان سے لاکر دیتی ہے ، جب تم گھر میں نہیں ہوتے ہو  تو وہ تمہارے مال  کی اور اپنی عصمت کی حفاظت کرتی ہے 


  سوره نمبر ٤، النساء  آیت نمبر١٢٨ کا حصّہ   

  

 وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلاَ جُنَاْحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا

بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ

o اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا


ترجمہ :

 


جب کسی عورت کواپنے شوہر سے بے رخی اور بد سلوکی کا خطرہ ہو تو کوئی حرج نہیں کہ (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر ) میاں اور بیوی آپس میں صلح کر لیں  - صلح بہرحال بہتر ہے نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں لیکن اگر تم احسان اور پرہیزگاری سے کام لو تو یقین رکھو الله تمہارے نیک عمل سے بے خبر نہ ہوگا  


Comments