* الله کی رسول کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں

اللّہ کے رسول کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں

 

 سوره نمبر ٣٣، الاحزاب ، آیت نمبر ٦ کا حصّہ 


 

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ

 

ترجمہ  :

 

 بلاشبہ مومنوں پر نبی  انکی جانوں سے بھی زیدہ حق رکھتے ہیں  اور نبی کی  بیویاں انکی  مائیں  ہیں

 

 


Prophet's Wives ( Ummul Momineen )

نبی کی بیویاں  (امل مومنین )

 نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادیوں کے بارے میں  لوگ یہ  ذہین نشین کر  لیں   کہ نبی نے  اپنی   زندگی بے داغ  گزاری ہے  اور  نبی اکرم کی بیویاں سارے مومنوں کی   مائیں ہیں

ان کی پہلی شادی ایک بیوہ کے ساتھ ہوئی  جو   شادی کے وقت  40 سال کی تھیں   اور  نبی اکرم  25 سال کے تھے  . وہ  جس معاشرے میں رہتے تھے  اس میں زیادہ  بیویوں کے ساتھ رہنا   قابل قبول تھا. لیکن نبی   اگلے پچیس سال  اپنی ایک  ہی بیوی کے ساتھ رہے . جب ان  کی پہلی بیوی کی وفات ہوئی تو انہوں نے  ایک 65 سال  کی بیوہ سے شادی کی  تھی- یہ بات واضح ہے کہ جوانی کے دنوں میں ان کی ایک سے زیادہ بیوی نہیں تھی   یہاں تک کہ ان کی درمیانی عمر میں، جب  انہوں نے  اپنا مشن شروع کیا تھا  تو   مکہ کے کچھ بااثر افراد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ جس بھی عورت کو وہ پسند کرتے ہیں اس  سےان کی  شادی کرا دی  جاۓ گی اس تجویز کو انہوں نے صاف ٹھکرا دیا تھا   یہ بات  بالکل واضح ہے کہ ان  کی اپنی ذاتی جسمانی   ضروریات کو پورا کرنے کی کوئی خواہش نہ  تھی جب  انکی  تبلیغ   اونچائی   پر  پہنچی  تو  ان کو  کچھ  وجوہات  کی  بناء پر  مزید  شادیوں  کی  ضرورت پڑی- جو مندرجہ ذیل ہیں  :   

1. کچھ  شادیاں انہوں نے  ان   خواتین کی مدد کرنے کے  لئے  کی  تھیں  جن  کے   شوہر کسی  غزوے

میں شہید ہو  چکے تھے اور  وہ اپنے  اسلامی عقیدے کی حفاظت کر  رہی تھیں  .

2. دوسرے حضرت ابو بکر سے تعلقات  کو زیادہ  مضبوط کرنے کے لئے  انہوں نے شادی کی تھی   .

3.  مختلف قبیلوں کے ساتھ حالات کو  استوار    کرنا تھا  جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ  کر رہے تھے  جب  الله کے رسول نے   شادی کے ذریعے  ان  لوگوں سے اپنا  رشتہ قایم  کیا   تو ان کی لڑائیوں پر قابو  پایا  گیا  ، اور مزید  خون خرابہ سے محفوظ  ہو گئے .   ان شادیوں کا   اصل  مقصد   مکمل طور پر سیاسی تھا .

 شادیوں کی تفصیل 

1.         خدیجہ (رضی الله  و تعلی عنہا )    بنت    خوالد   

جب وہ 25 سال  کے  تھے  تو حضرت   خدیجہ (رضی الله  و تعلی عنہا ) کے ساتھ  پہلی شادی  ہوئی   اس وقت  وہ  40 سال کی تھیں  وہ  پچیس سال تک الله کے رسول کی شریک حیات رہیں اور اس کے بعد   انکا انتقال   65سال کی عمر میں  ہوا  

2.  سودہ  (رضی الله  و تعلی عنہا )   بنت زما

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم نے جب ان سے  شادی کی تھی تو وہ 50 سال  کے تھے  اور وہ  65  سال کی تھیں . وہ ایک بیوہ تھی، بہت غریب  تھیں  اور  ان کی  دیکھ بھال کرنے کے لئے کوئی نہیں تھا 

3.    عائشہ صدیقہ (رضی الله  و تعلی عنہا )

 

الله کے رسول نے جب  حضرت   عائشہ سے شادی کی جب  وہ 9 سال کی  تھیں  اور  نبی اکرم   56  سال کے تھے اس  شادی  کی  تین وجوہات تھیں جس کے مدنظر الله کے نبی نے یہ شادی کی تھی   پہلی  وجہ  یہ  تھی کہ  حضرت   ابو بکر کے ساتھ دوستانہ تعلّققات مضبوط ہو جائیں  دوسرے چونکہ حضرت عائشہ  ذہین تھیں اور انکی  یاداشت بڑی  عمدہ  تھی اس وجہ سے   ان کو تربیت دینے کے لئے اور اسلام کا علم دینے کے لئے  یہ شادی کی تھی  تیسرے انکو یہ علم  سکھانے  کا مقصد تھا کہ ان کی صلاحیّتوں کا  استمعال  کرایا جائے

عائشہ (ر)  جب  پیدا ہوہیں تھیں تب   ان کے والدین نے اسلام قبول کر لیا  تھا   ، لہذا وہ پیدا  ہی  مسلمان  ہوئیں .

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی حیثیت سے وہ ان کے بہت قریب رہیں  لہٰذا   ان کو  جس درجہ کا  علم حاصل ہوا وہ   کسی اور   عورت  کو  کبھی بھی حاصل نہیں ہوا  . نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال  کے بعد بھی  وہ  تقریبا پچاس برسوں تک ذندہ ر ہیں  الله  کے فضل سے  انہوں نے   دو اہم  ذرا ئع سے علم حاصل کیا  وہ ہیں قرآن کا علم اور نبی اکرم کی سنّتوں کا علم  -  وہ اتنی کامل ہوگئیں تھیں کہ انہوں نے  تقریبا دو ہزار احادیث کو یاد کیا تھا   - اسلام کے علماء کا دعوی ہے کہ ان  کے  بغیر  احادیث کا علم   ادھورہ    رہ جاتا  . لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے  بزرگ صحابہ بھی   پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے  عائشہ (ر) سے گفتگو کرتے تھے. بہت سے مرد اور عورتیں  دور دراز علاقوں سے ان کے پاس  ان کے  علم سے فائدہ  حاصل کرنے آتے تھے . کئی مرتبہ  ان کے  بستر پر نبی  اکرم کو  وحی  کے ذریئے  آیتیں نازل   ہوئیں  تھیں  حضرت  عائشہ کو ان آیات کی تشریح کرنے میں بہت آسانی  ہوئی تھی  حضرت   عائشہ (ر) کی زندگی ایک ثبوت ہے کہ عورت مرد سے زیادہ سیکھ سکتی ہے. اللہ سبحانہ وتعالی جنت میں ان کو   بلند ترین جگہ عطا فرمائے- آمین  

 

4. حفصہ (رضی الله  و تعلی عنہا )  بنت  عمر   

  

 یہ حضرت  عمر  (رضی الله  و تعلی   عنہو ) کی دوسری بیٹی تھیں  جب وہ  22  سال کی  عمر میں بیوہ ہو گئیں  تو   عمر (ر) نے پہلے  ابوبکر (ر) سے  اور اس کے بعد  عثمان (ر) سے ان کی   شادی کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں نے شادی کرنے سے انکار کردیا. اس کے بعد وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ابو بکر اور عثمان کے رویے کے بارے میں شکایت کی. بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  ان  سے شادی کرنے پر اتفاق کیا. اس شادی کے وقت  الله کے رسول  56 سال کے  تھے                                                                                                    

زینب (رضی الله  و تعلی عنہا ) بنت  خزیمہ 5  

   

·      جب  وہ  30  سال کی تھیں تو   بدر کی لڑائی میں ان کے  شوہر شہید  ہو گئے  ،  وہ  غریب تھیں  اور  ان کے  بچے تھےان کے شوہر کا نام عبیدہ  بن  حارث تھا  اور وہ ایک  ایماندار مسلمان تھے  الله کے رسول نے اس بیوہ سے شادی کی اسوقت الله کے رسول کی   عمر   58 سال کی تھی. ان کی عظمت اور صدقات  کی  وجہ سے انہیں امل  مساکین  کا خطاب   دیا گیا تھا - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کے ٣ ماہ بعد ہی  وہ وفات پا گئیں       

 

       6  سلمہ   (رضی الله  و تعلی عنہا ) بنت  امیّہ


 ان کے شوہر،  ابد  الاسد،  احد  کی جنگ میں  شہید  ہو گئے  تھے  اور حضرت سلمہ  غربت اور  بچوں  کے ساتھ بیوہ ہو گئیں  اس وقت وہ  کم از کم  65  سال کی  تھیں   کئی افراد نے  ان سے   شادی کرنے کی خواہش  ظاہر  کی  لیکن انہوں نے انکار کر دیا    اس وجہ سے  کہ ان کو اپنے شوہر سے بہت پیار تھا    لیکن آخر میں انہوں نے الله کے نبی  کی پیشکش قبول کی اور  شادی کرنے سے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کی. جب ان کی شادی ہوئی  تو   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 58 سال کی  تھی

   7زینب   (رضی الله  و تعلی عنہا )   بنت   جحش

وہ  محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  پھوپھی امامہ   بنت  المطلب   کی  بیٹی تھیں ، الله کے  نبی نے ذینب  کی شادی    ذید بن  حارث  کے ساتھ  کرانے  کا اہتمام کیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا  منہ بولا   بیٹا تھا. یہ شادی طویل عرصے  تک  نہیں  رہی   اور ذید نے ذینب کو طلاق دے دی . روایتی طور پر منظور شدہ بیٹوں کو عربوں  میں  حقیقی بیٹوں کے  طرح   شمار کیا جاتا    تھا،  محمّد (ص) نے   ذینب سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا  اصل میں یہ فیصلہ  عربوں کے  نظریات کو روکنے کی کوشش تھی. ابتدائی طور پر وہ  عوامی رائے سے خوفزدہ تھے اور ذینب سے شادی کرنے سے قاصر تھے. جب زینب کی عدّت  مکمل ہوگئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان  سے شادی کی. اسوقت  نبی صلی اللہ علیہ وسلم 58  سال کے تھے اور ذینب 35 سال کی تھیں. مدینہ میں ایک طبقہ تھا جو  منافقین تھے  اس شادی کے بعد ان لوگوں نے  بہت افواہیں پھیلائیں اور مسلمانوں کو دو حصّوں  میں تقسیم  کرنے  بھرپور کوشش کی – اس پر سوره احزاب کی آیت نمبر   37 ، سے  اس شادی کو  جائز قرار دیا گیا تھا اور اس  روایت کو اسلام نے ختم کیا .

                                

8. جواریا   (رضی الله  و تعلی عنہا )   بنت  حارث

 ان کے پہلے  شوہر کا نام   مسافیح  ابن  صفوان تھا  اور وہ  طلاق شدہ   بیوہ  تھیں    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چاہتے  تھے کہ جواریا  کا   قبیلہ اسلام  قبول کرلے   جب مسلمانوں نے  مستلاق  کی جنگ جیت لی،  تو جواریاکو    قیدی بنا کر لایا گیا – جواریا کے والد  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جواریا  کی  رہائی کے لئے  ادائیگی پیش کی. اس وقت، نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے  والد سے کہا کہ  جواریا    خود  طے  کرے کہ ان کو  واپس جانا ہے یا نہیں . جب  ان  کو انتخاب کرنے کے لئے کہا گیا  تو ان کا   جواب  تھا   کہ میں نے  اسلام قبول کرلیا ہے. وہ ایک پرہیزگار مسلم خاتون تھیں اور بلا ناغہ  ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے لگی  تھیں  . بعد میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی اور اس وقت وہ 59 سال کی تھیں . شادی   کے  واقعہ نے   ایک سیاسی موڑ لیا تھا اور ان   کے  قبیلہ  بنی  المستلاگ  نے اسلام    قبول  کیا تھا .

9. صفیہ   (رضی الله  و تعلی عنہا ) بنت   حییا 

صفیہ ایک یہودیوں کے قبیلے بنو نادر سے تعلق  رکھتی تھیں  جب مسلمانوں کی لڑائی ان کے قبیلے سے ہوئی تھی تو ان کے شوہر مارے گئے تھے   اس وقت وہ 17 سال کی تھی. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان  سے شادی کی-  شادی سے پہلے انہیں اپنے قبیلے  میں  واپس جانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن  انہوں نے کہا تھا کہ میں نے  اسلام  قبول کر لیا ہے   اور انہوں نے   نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو  اللہ کے آخری  نبی  کے طور پر  مان بھی   لیا تھا  شادی کے بعد   انہوں نے نبی اکرم کی  دیکھ بھال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی  اور ان کو ہر قسم کی  سہولت فراہم کی

10.   امم  حبیبہ (رضی الله  و تعلی عنہا )   بنت ابو سفیان

 ان کے شوہر کے نام   اوبدے الله تھا    جو مسلم بن گیا تھا   اور پھر کچھ عرصے کے بعد عیسائیت میں بدل گیا. وہ ایک پرہیزگار  مسلمان  تھیں  لہذا انہوں نے  اپنے شوہر کو چھوڑ دیا  تھا  وہ  وقار کے ساتھ  رہتی  تھیں  جب  نبی  (ص) نے ان سے شادی کر لی تو  وہ   اس شادی  سے  بہت خوش  تھیں  اس شادی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 61 سال تھی، لیکن  ان کی عمر معلوم نہ ہو سکی

 

 

11.  میمونہ  (رضی الله  و تعلی عنہا )   بنت حارث

 ان  کا پہلا شوہر ابو رحما   تھا. جب مکہ فتح ہوا   تو  وہ نبی کے پاس  آئیں  اور ان  سے شادی کرنے کا ارادہ کیا. اس شادی کی وجہ سے  مکہ کے کافی لوگوں نے  اسلام کو قبول کیا  جس سے ان کی  حوصلہ افزائی ہوئی تھی،  دوسرے  ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے مخزوم کے لوگوں  کے ساتھ   اچھے تعلقات قائم ہو گئے   پہلے  یہ لوگ نبی اکرم کے خلاف تھے  شادی کے وقت نبی اکرم کی عمر   60  سال کی تھی اور وہ 36 سال کی تھیں

 

12.ماریہ (رضی الله  و تعلی عنہا )  القبطیہ       

وہ مریم قبطیہ   کے نام سے بھی مشہور تھیں   اور ان کو  نبی اکرم کے لئے  ایک تحفہ کے طور پر بھیجا گیا تھا.  ان کی پرورش  مصر میں ایک عیسائی کے طور پر  ہوئی تھی . جب وہ مدینہ  پونچھیں تو انہوں نے  اسلام  قبول کیا تھا. اس کے بعد  ان کی شادی  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی  اور انکو   شادی  کے بعد   اوپری مدینہ کے  باغ کے  گھر مقیم کیا گیا   نبی اکرم کا ایک بیٹا حضرت ماریہ سے ہوا -  جس کا نام ابراہیم رکھا گیا  تھا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی  دوسری بیویاں  حضرت ماریہ سے بہت  پیار  کرتی تھیں  اور ان کو بہت پسند کرتی تھیں  بدقسمتی سے 18 ماہ کی عمر میں ابراہیم بہت سخت بیمار ہوئے   اور ان کا انتقال ہو گیا تھا .

 

Comments