* چوری کرنے سے بچیں


چوری کرنے سے بچیں

 

  سوره  نمبر ٥، المائدہ ، آیت نمبر ٣٨ 

 

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ

وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

 

ترجمہ  :


 اور چورخواہ عورت ہو مرد ، دونو کے ہاتھ کاٹ دو – یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے  اور الله کی طرف سے دردناک سزا اور دوسروں کے لئے  عبرت ، الله   غالب اور حکمت والا  ہے     

 

تبصرہ   :

 

فقہاء کے درمیان اتفاق رائے ہے کہ پہلی چوری کی صورت میں دائیں ہاتھ  کو کاٹ دیا جانا چاہئے. یہ سزا صرف چوری کے لئے رکھی گئی ہے. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان کیا: "اس کے ہاتھوں کو کاٹنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جو غبن کرے . (ابو داؤد،  14 ؛ ترمیذی، 18؛ ابن ماجه، 36؛  نسائی ، 13.) اس سے پتہ چلتا ہے کہ چوری کے لئے مقرر کردہ سزا  الگ  ہے اور غبن کرنے کی سزا الگ طریقے سے ہوگی  .

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہدایت کی کہ ایک ہاتھ کاٹنے کی  سزا  نہیں ہوگی اگر جو چییز  چرائی گئی ہے وہ ایک شیلڈ سے کم ہو   ابن عبّاس کی معرفت ، ایک شیلڈ  دس درہم کے برابر ہوتی ہے یا  عائشہ کی معرفت  درہم کا  ایک چوتھائی-  .

اس کے علاوہ، ایسی چیزیں موجود  ہیں   جن کی چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی ضرورت نہیں ہوگی – نبی اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی ہے کہ اگر  کھانےکا سامان  چوری کیا ہو تو  کوئی ہاتھ نہیں کٹے گا   'عائشہ' سے روایت کے مطابق: '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دور میں چھوٹی چیزوں کی چوری کے دوران چور کا ہاتھ نہیں  کاٹا گیا . حضرت  عمر  اور  حضرت علی کے زمانے میں سرکاری خزانے سے چوری ہونے پر بھی چور کے ہاتھ نہیں کاٹےگئے تھے  .

ابو حنیفہ کے مطابق سبزی، پھل، گوشت، پکا ہوا غذا، اناج،  وغیرہ  کو چوری کرنے  پر ہاتھ  نہیں  کاٹنے  چاہئے. اسی طرح  چرنے والے  جنگل میں جانوروں کو چوری کرنے یا عوامی خزانے سے چوری کرنے پر بھی  ہاتھ نہیں کاٹنے نا چاہئے. اسلامی قانون کے دیگر مسلک کے بانیوں نے بھی  کچھ چیزوں کی چوری کرنے پر  ہاتھ کاٹنے کی سزا کے لئے رضا مندی نہیں دی ہے . لیکن اس  چھوٹ  کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجرم کو کوئی  سزا نہیں دی جاسکتی ہے. بلکہ اس کے لئے دوسری سزا برقرار رہے گی  (ابن  کثیر  کی تفسیر دیکھیں)

 

 

Comments