23. شب معراج

Introduction‎ > ‎8. Important Information‎ >

شب معرا ج 

سورہ نمبر ١٧، الاسرا (بنی اسرئیل) ، آیت نمبر ١ 

   سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي                          

 بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُo

ترجمہ  :

وہ   پاک  ہے  جو   ایک  رات  اپنے  بندے  کو   مسجدِ حرام  یعنی  (خانہ ءکعبہ ) سے  مسجدِ اقصی ٰ  یعنی   (بیت

 المقدّس )  تک   جس  کے  گردا  گرد  ہم  نے  برکتیں  رکھی  ہیں ،  لے  گیا   تاکہ  ہم   اسے   اپنی  نشانیاں

  دکھائیں –وہ  سننے  والا   اور  دیکھنے  والا  ہے   


سورہ نمبر ٥٣، النجم ، آیت نمبر ١٣-١٨                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                         

عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى o عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى o وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى o إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى

لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُب

 ترجمہ :  

اور ایک مرتبہ پھر اُس نے   ، سدرہ ة  المنتٰہی  کے پاس اُس کو دیکھا  ، جہاں پاس

 ہی جنّت  الماو ٰی ہےجب کے اسوقت سدرہ ة پرچھا رہا تھا جو چھا  رہا تھا

   یعنی  (نور الہٰی) نہ تو نظر  بہکی  نہ حد سے بڑھی ،بے شک اس نے

 اپنے رب کی بڑ ی سے بڑی نشانیاں  دیکھیں  


تبصرہ:

اس آیت میں جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے اسے "معراج" اور "اسرا" جانا جاتا ہے۔ مستند احادیث کے مطابق ، یہ ہجرت سے 

ایک سال قبل ہوا تھا۔ اس کی تفصیلات صحابہ کی ایک بڑی تعداد جیسے انس بن مالک ، ملک بن صعاصہ ، ابوذر غفاری ، ابوہریرہ 

`عمر ، علی ، اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے۔ قرآن مجید اس کے علاوہ کوئی تفصیلات نہیں دیتا ہے لیکن 

احادیث میں اس کی مزید تفصیلات ملتی ہیں۔ اکثر مسلمانوں نے اس واقعہ کو رجب کے ماہ میں تسلیم کیا ہے

 جب ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مکہ مکرمہ کی مسجد حرام سے یروشلم میں مسجد  اقصی ٰ لے جایا  گیا 

 تھا۔ اسے قرآن میں الاسراء کہا جاتا ہے۔ پھر ، نبی اکرم کو مسجد اقصی سے سات آسمانوں پر لے جایا گیا اس کو  معراج  کہا جاتا 

ہے  

حدیث کتاب نمبر ٥٨ ، صحیح البخاری ، حدیث نمبر ٢٢٧ 

شب معرا ج   کا واقعہ       

عباس بن مالک (رح) سے  روایت ہے

 مالک بن صعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے ان کو اپنا رات کا سفر بیان کرتے ہوئے کہا ، "جب میں حطیم

 میں آرام کر رہا   تھا ، اچانک کوئی میرے پاس آیا  اور میرے سینے  کو یہاں سے یہاں تک کھول دیا۔" میں نے الجارو د سے پوچھا

 جو میرے ساتھ تھا ، "اس کا کیا مطلب ہے؟" اس نے کہا ، "اس کا مطلب ان کے گلے سے  ناف کے علاقے تک ہے ،" یا 

کہا ، "سینے کے اوپری حصے سے۔"الله کے  نبی  کہا ، "پھر اس نے میرا دل نکال لیا۔ پھر میرے پاس عقیدہ کی سونے کی ایک

 ٹرے لائی گئی اور میرا دل   دہویا گیا اور یقین سے بھرنے کے بعد  اس کو اپنے اصلی مقام پر  رکھ دیا  گیا  پھر ایک سفید رنگ  کا

 جانور  جو خچرسے  (ہائبرڈ گدھا)  سے   چھوٹا تھا  اور گدھے سے  بڑا تھا  اس کو لایا گیا   ،  ۔ مجھے اس پر  بٹھایا  گیا ، اور جبریل (جبرائیل) 

میرے ساتھ نکلے  الله کے نبی  نے فرمایا ، "جانور کاایک   قدم  اتنا  بڑا  تھا   ایک قدم  بڑھانے  میں  وہ   دور حد تک پہنچ گیا یہاں تک 

کہ ہم قریب ترین  آسمان تک  پہنچ گئے۔     

 جب  جبریل  نے  دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا  کہ آپ کے ساتھ  کون  ہیں  ؟    جبرائیل نے جواب دیا ،  محمد۔ 

پوچھا گیا ، 'کیا محمد کو بلایا گیا ہے؟' جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا ، ' ان کا خیر مقدم  ہے۔  ان کا کتنا عمدہ دورہ 

ہے!  اس کے بعد دروازہ    کھولا  گیا   ،  اور جب میں پہلے آسمان کے اوپر گیا تو میں نے  حضرت آدم کو وہاں دیکھا۔ جبریل 

نے مجھ سے کہا۔ 'یہ  تمھارے  باپ  آدم  ہیں ۔ انہیں سلام پیش   کرئے ۔ ' تو میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے  مجھے 

سلام واپس کیا اور کہا ، اے پرہیزگار بیٹے اور متقی نبی  آپ کا استقبال ہے۔ پھر جبریل میرے ساتھ آگے  چلے  یہاں تک کہ 

ہم دوسرے  آسمان  میں پہنچ گئے۔ جبرائیل نے دروازہ  کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا ، 'یہ کون  ہیں ؟' جبرائیل نے جواب 

دیا ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا  بلائے گئے ہیں ؟' جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا ، 'ان کا خیر مقدم  ہے۔ ان کا کتنا 

عمدہ دورہ ہے! '  دروازہ  کھولا گیا ۔

جب میں دوسرے  آسمان  کے اوپر گیا تو وہاں میں نے  حضرت  یحییٰ (یوحنا) اور حضرت  عیسیٰ  کو دیکھا  جبریل نے (مجھ سے) کہا یہ 

یحییٰ اور عیسیٰ ہیں۔ انہیں سلام پیش کرو۔ ' چنانچہ میں نے ان کو سلام کیا اور ان دونوں نے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ اے 

پرہیزگار بھائی اور متقی نبی. آپ کا استقبال  ہے۔ تب جبرائیل میرے ساتھ تیسرے   آسمان  کی طرف  بڑھے اور  اس کا دروازہ 

کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ، 'یہ کون  ہیں ؟' جبرائیل نے جواب دیا ، جبرائیل۔ ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا  انہیں  بلایا گیا ہے؟' جبرائیل 

نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا ، 'ان  کا استقبال  ہے   ، ان   کا کتنا عمدہ دورہ ہے!'  دروازہ  کھولا  گیا  ، اور جب میں نے وہاں 

تیسرے آسمان پر  گیا   تو میں نے یوسف (جوزف) کو دیکھا۔ جبریل نے کہا  یہ  حضرت  یوسف ہیں ۔ انہیں سلام پیش کرو۔ ' تو 

میں نے ان  کو سلام کیا اور  انہوں نے  مجھے سلام واپس کیا اور کہا ، اے پرہیزگار بھائی اور متقی پیغمبر ، آپ کا استقبال ہے۔ تب 

جبرائیل میرے ساتھ چوتھے آسمان کی طرف   بڑھے  اور اس کا دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ، 'یہ کون  ہیں ؟' جبرائیل نے 

جواب دیا ، ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا انہیں  بلایا گیا ہے؟' جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا ، 'ا ن  کا استقبال  ہے  ، ان  کا 

کتنا عمدہ دورہ ہےدروازہ کھولا گیا  ، اور جب میں چوتھے آسمان پر گیا تو وہاں حضرت ادریس کو دیکھا۔ جبریل نے (مجھ سے) کہا: 

یہ ادریس  ہیں -  انہیں  سلام پیش کرو۔ ' تو میں نے ا ن  کو سلام کیا اور انہوں نے  مجھے سلام واپس کیا اور کہا ، اے پرہیزگار 

بھائی اور متقی پیغمبر ، آپ کا استقبال ہے۔ تب جبرائیل میرے ساتھ پانچویں  آسمان میں  گیا اور اس کو  دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ 

پوچھا گیا ، '،  'آپ کے ساتھ کون ہیں ؟' جبرائیل نے جواب دیا ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا انہیں  بلایا گیا ہے؟' جبرائیل نے اثبات 

میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا کہ ان کا خیرمقدم  ہے  ، ان کا کتنا عمدہ دورہ ہے! چنانچہ جب میں پانچویں آسمان پر گیا تو وہاں میں 

نے حضرت  ہارون کو دیکھا ، جبرائیل نے کہا ،   یہ ہارون ہیں ۔ انہیں  سلام پیش کرو۔ ' میں نے  ان کو سلام کیا اور انہوں نے  

مجھے سلام واپس کیا اور کہا ، اے پرہیزگار بھائی اور متقی نبی ، آپ کا استقبال ہے۔ تب جبرائیل میرے ساتھ چھٹے آسمان پر  گئے   

اور اس کا دروازہ کھولنے کا کہا۔ ا ن سے پوچھا گیا۔ ' آپ کے ساتھ کون  ہیں ؟' جبرائیل نے جواب دیا ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا  

انہیں  بلایا گیا ہے؟' جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا۔ کہا گیا ، 'ان کا خیرمقدم  ہے۔ ان کا کتنا عمدہ دورہ  ہیں  (چھٹے آسمان کے 

اوپر) گیا تو وہاں میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ جبریل نے کہا یہ موسیٰ   ہیں ۔ انہیں  سلام پیش کرو۔ تو میں نے ان  کو 

سلام کیا اور اس انہوں نے  مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ اے پرہیزگار بھائی اور نیک نبی ، آپ کا استقبال  ہے  ہے۔ جب میں 

نے(موسیٰ) کو چھوڑا تو وہ رونے لگے ۔ پوچھا  گیا  ، ' آپ کیوں  روتے ہو ؟'  تو  موسیٰ نے کہا ، 'میں اس لئے روتا ہوں کہ میرے 

بعد ایک نوجوان بھیجا گیا ہے جس کے پیروکار میرے پیروکاروں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔' تب جبرائیل 

میرے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف بڑھے  اور اس کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا ،  'آپ کے ساتھ کون  ہیں ؟  

جبرائیل نے جواب دیا ، محمد۔ پوچھا گیا ، 'کیا انہیں بلایا  گیا ہے؟' جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر کہا گیا ، 'ان  کا خیر مقدم  

ہے۔ ان کا کتنا عمدہ دورہ ہے! '

چنانچہ جب میں (ساتویں آسمان کے اوپر) گیا تو وہاں میں نے حضرت  ابراہیم (ابراہم ) کو دیکھا۔ جبریل نے مجھ سے کہا: یہ 

تمہارے باپ ہے۔ انہیں  سلام کرو۔ ' تو میں نے ان  کو سلام کیا اور انہوں نے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ اے پرہیزگار بیٹے 

اور متقی نبی  آپ کا استقبال ہے پھر مجھے   سدرة المنتہیٰ  (بیری والے  درخت ) کے پاس جانا    پڑا      اس کے پھل  حجر کے 

مرتبان  کی طرح تھے  اور اس کے  پتے ہاتھیوں کےکان جیسے تھے  جبرائیل نے کہا کہ یہ درخت انتہائی حد ہے  دیکھئے یہاں 

چار ندیاں ہیں  دو چھپی ہوئیں ہیں اور دو ندیاں جو ہیں وہ ہیں عرفات  اور دریا نیل - پھر مجھے بیت المعمور (یعنی مقدس گھر ) 

دکھایا گیا – پھر مجھے  شراب سے بھرا ہوا ایک  برتن   اور دوسرا دودھ  سے بھرا ہوا اور تیسرا شہد سے بھرا ہوا میرے پاس 

لایا گیا۔ میں نے دودھ  والا برتن لیا۔ جبرائیل نے  مجھ سے کہا   'یہ اسلامی مذہب ہے جس کی پیروی آپ اور آپ کے 

پیروکار کر رہے ہیں۔' پھر مجھ پر نماز فرض کی گئی  :  جو  دن میں پچاس بار نماز کا حکم تھا ۔ جب میں واپس آیا تو ، میں  

حضرت موسٰی کے پاس سے گزرا  جنھوں نے  (مجھ سے) پوچھا ، 'آپ کو کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟' میں نے جواب دیا ، 

'مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دن میں پچاس نماز وں کی ترغیب دوں ۔' موسیٰ نے کہا ، 'آپ کے پیروکار ایک دن میں پچاس 

نمازوں کا بوجھ  نہیں اٹھا ، اور خدا کی قسم ، میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی ہے ، اور میں نے بنی اسرائیل کے 

ساتھ اپنی کوشش کی ہے۔ اپنے پروردگار کے پاس واپس  جائے  اور اپنے پیروکاروں کے بوجھ کو کم کرنے کے  لئے  درخواست 

کیجئے ا وراللہ نے میرے لئے دس نمازیں کم کردیں۔ پھر میں موسٰی کے پاس آیا ، لیکن  انہوں نے وہی کہا جو اس نے پہلے کہا 

تھا۔ پھر میں پھر اللہ کے پاس واپس گیا اور اس نے دس اور نمازیں کم کردیں۔ جب میں موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی 

یہی کہا ، میں اللہ کے پاس واپس گیا اور مجھے حکم دیا  گیا کہ دن میں دس نماز پڑھیں۔ جب میں واپس حضرت  موسیٰ کے پاس 

واپس آیا  تو  انہوں نے اپنا  مشورہ   پھر دہرایا ، لہذا میں اللہ کے پاس پھر   واپس گیا اورمجھے  دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا 

حکم دیا گیا۔

پھر  میں حضرت  موسیٰ کے پاس واپس آیا تو ا نہوں نے کہا تمہیں کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے جواب دیا ، 'مجھے حکم دیا گیا 

ہے کہ مجھے دن میں پانچ نمازیں پڑھیں۔' انہوں نے کہا ، 'آپ کے پیروکار ایک دن میں پانچ نمازیں نہیں اٹھا سکتے ہیں ، اور 

اس میں کوئی شک نہیں ، مجھے آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ ملا ہے ، اور میں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنی پوری کوشش کی 

ہے ، لہذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس میں کمی کی درخواست کریں۔ اپنے پیروکار کا بوجھ کم کریں۔ ' میں نے

 کہا ، میں نے اپنے پروردگار سے اتنی درخواست کی ہے کہ مجھے شرم آتی ہے ، لیکن اب میں مطمئن ہوں اور اللہ کے حکم کے 

سپرد ہوں۔ '

اس سفر کے بعد ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ واپس آئے۔ یہ سب ایک ہی رات میں ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 

نے جنت کے عجوبات  اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عظیم نبیوں سے ملاقات کی۔اہل مکہ نے نبی اکرم'کی زیارت  اور اس  کے 

بارے میں دریافت کیا۔ انکو اس بات کا بلکل  یقین نہیں  تھا کہ  واقعی انہوں نے  مکہ مکرمہ سے یروشلم تک ایک ہی رات 

میں ایسا سفر کیا ہوگا ۔ ثبوت کے طور پرمکّہ کے لوگوں نے   الله کے رسول سے  مسجد اقصٰی کے بارے میں دریافت کیا  مکّہ 

والوں کو یہ معلوم تھا کہ الله کے نبی یہاں کبھی نہیں گئے ہیں   ۔ انہوں نے مسجد اور اس کے آ  س پاس کے بارے میں 

پوری  تفصیل کے ساتھ   بیان کیا۔ مزید یہ بھی  فرمایا ، "واپسی کے  سفر کے وقت ، میں نے دیکھا کہ آپ کے چرواہے  ایک 

خاص جگہ پر ایک  اونٹ   ڈھونڈ رہے تھے جو  کھو گیا تھا۔"  الله کے رسول نے  اونٹ کی تفصیل  بھی بتائی ۔ جب یہ 

چرواہے واپس آئے تو   انہوں   نے  مکّہ کے  لوگوں کو بتایا کہ ان کے ساتھ وہی ہوا تھا  جیسا کہ الله کے  پیغمبر نے آپ

 لوگوں کو بتا یا تھا ۔

                                                                                                    

Comments