25. اسلامیک کیلینڈر

Introduction‎ > ‎8. Important Information‎ > 

اسلامی کیلنڈر 

 یہ ایک قمری تقویم والا کیلنڈر    ہے جس   میں قمری مہینوں کا استعمال ہوتا تھا ، لیکن جب ضرورت ہوتی ہے تو اضافی ماہ  کے اندراج کے 

ذریعہ موسموں کے ساتھ اس کو ملا دیا جاتا  تھا  ۔ دوسری طرف قرآن نے اضافی ماہ کو ملا نے  کے لئے منع کر دیا ہے


   سورہ نمبر  ٩، توبہ ، آیت نمبر ٣٦   

        

بے شک الله کےپاس  مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں الله کی کتاب میں جس دن سے الله نے زمین اور آسمان پیدا کیے ان میں سے چار 

عزت والے ہیں یہی سیدھا دین ہے سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان 

لو کہ الله پرہیزگاروں کے ساتھ ہے


سورہ نمبر  ٩، توبہ ، آیت نمبر ٣٧ 


عزت  کےکسی  مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال 

سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس 

کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا 

اسلام سے پہلے کا کیلنڈر قمری تھا اور  مہینے  آنے والے موسموں کے مطابق تھے ۔ عرب ہر تیسرے سال کے بعد ایک مہینہ کم کرتے  تھے  تاکہ حج کی رسم اسی موسم میں کی جاۓ ۔ (نبی اکرم. کی ولادت سے پہلے حج کی رسم بھی رواج میں تھی)۔ مہینوں کے نام موسم پر مبنی تھے۔

  ربیع کا مطلب ہے ’بہار‘ اور جمادی کا مطلب ہے ’سخت‘۔ رامادھن کا مطلب ہے  رمد ھ - جس کے معنی ہیں '' بہت گرم ''۔


             قرآن  مجید   کے حکم کے مطابق  ایک سال میں    ١٢ 

 مہینے ہی طے کے گئے  ، اس طرح ہر تین سال بعد ایک مہینہ کم کرنے  کی روایت کو مسترد کر دیا گیا ۔ اسلام سے پہلے کے قبائل میں چار 

مہینوں کو مقدس مانا جاتا تھا  - یعنی  رجب ،   ذوالقعد  ، ذلحج اور محرم ،  جن ماہ میں  کوئی جنگ اور لوٹ مار نہیں ہوسکتی تھی رسول 

اللہ کے ساتھیوں نے مہینوں    کے  پہلے دور کے  نام برقرار رکھے تھے۔رماد ھن ، رمادان (رمضان)   بن گیا جو  مسلمانوں کے لئے مقدس 

ماہ بنا  کیونکہ اس مہینے میں قرآن کا نزول ہوا ۔ محرم نے سال کا آغاز کیا اور وہ مقدس تھا کیونکہ اس میں  ایک  روزہ رکھا جاتا  تھا۔ صفر کا 

مہینہ محرم کے بعد آتا ہے جو اسلامی کیلنڈر  کا پہلا مہینہ ہے۔ صفر کے لغوی معنی" خالی "  کے  ہیں۔

شعبان اسلام سے پہلے کے قبا ئل شعبان کے ماہ میں تقسیم ہونے کی بنیاد ڈالی  گئی تھی لہٰذا اس ماہ میں  قبائل ’تقسیم‘ ہوجا تے تھے اور  لوٹ مار کے لئے نکل جاتے تھے۔عرب کے قبیلے  جنگ کرنے  والی قومیں  تھیں۔ چھوٹے چھوٹے تنازعات آسانی سے جنگوں میں بدل جاتے تھے  جو برسوں جاری رہتے تھے  اور کچھ اوقات  تو آنے والی نسلوں کو وراثت میں ملتے تھے ۔ ان   قبا ئل     کے جنگ سے پاک مہینے محرم (اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ) ، رجب (اسلامی تقویم کا ساتواں مہینہ) ، ذوالقعد (اسلامی تقویم کا 11 واں مہینہ) اور ذی الحجہ (اسلامی تقویم کا 12 واں مہینہ) تھے۔

اکثر  مسلمان علم کی کمی ہونے کی وجہ سےتو ہم پرستی کا شکار ہیں۔ قرآن پاک نے اس طرح کے توہم پرستی کے بارے میں واضح ہدایت نامہ فراہم کیا ہے۔

سورہ نمبر ٦٤، التغابن، آیت نمبر  ١١ 

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر   اللہ  کے حکم سے۔ اور جو شخص      اللہ  پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ اور   اللہ   ہر چیز سے باخبر ہے 

اسلام میں توہم پرست عقائد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوں کو کسی بھی دنوں ، ہفتوں ، مہینوں یا سالوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے ،اس بات پر  بلکل یقین نہیں کرنا چاہئے کے کچھ  لوگ یا  مکان یا کچھ چیزیں بد قسمتی لاتی ہیں۔اسلام سے لاعلمی کے دوران ، عربوں نے مختلف مہینوں کے بارے میں متعدد توہمات کا سامنا کیا۔ اللہ کے رسول ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام لانے سے پہلے کے تمام غلط اور توہم پرست عقائد کو مسمار کردیا۔

مسلمانوں کو ان مہینوں کے سلسلے میں تمام توہم پرست عقائد سے دور رہنا چاہئے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ بدقسمتی صرف ان لوگوں کو پہنچے گی جو اللہ اور اس کے آخری رسول محمد (ص) کی نافرمانی کرتے ہیں۔براہ کرم یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جو بھی مسلمان اللہ کے احکامات کی پابندی نہیں کرتا ہے ، جو پانچ روزانہ صلا ۃ   (نماز) کی پیش کش نہیں کرتا ہے ،وہ  صوم (روزا) کی پابندی کی  کوئی پرواہ نہیں   کرتا  ہے ، حج کے لئے جانے سے انکار کرتا ہے ، اسلامی قانون کے مطابق زکوٰۃ   دینے کو منع کرتا ہے وہ  شخص بڑا بدقسمت ہے جو اللہ کے رسول کے لائے ہوئے دین کے مطابق زندگی نہیں گزارتاہے    

اسلامی کیلنڈر یا مسلم کیلنڈر جسے ہجری تقویم بھی کہا جاتا ہے وہ کیلنڈر ہے جو  کئی  مسلم ممالک میں  استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک قمری تقویم ہے جس میں ایک قمری مہینہ ہوتا ہے جس میں ایک سال میں 12 قمری ماہ ہوتے ہیں۔اسلامی سال جو اللہ کے رسول کی مکّہ سے مدینہ کی ہجرت کی   وجہ سے جانا جاتا ہے ،   اسلامی سال یا کیلنڈر اردو کے حرف ھ(ھجری) سے نامزد کیا جاتا ہے     

اسلامی مہینے اور انکے نام اس طرح ہیں

1.             مّحرم    (مّحرم الحرام)

2.             صفر   ( صفر المظفر)

3.             ربیع الاول

4.                  ربیع اثانی ( ربیع الآخر )

5.              جمادی الاول

6.             جمادی الثانی    (جمادی الآخر )

7.             رجب  ( رجب المرجب )

8.                شعبان  ( شعبان ال معزم)

9.             رمادان  ( رمضان یا  رمضان المبارک)

10.     شوال ( شوال المکرّم )

11.      ذوالقعد   ( ذیقعد )

12.     دل  الحججہ   (ذ ل الحج) 

  

ہفتے کے دن

اسلامی ہفتہ یہودی ہفتہ سے ماخوذ ہے۔ اسلامی اور یہودی ہفتہ کے دن کا آغاز غروب آفتاب کے وقت ہوتا ہے ، جبکہ عیسائی ہفتے کے دن آدھی رات کو شروع ہوتا ہے ۔ دنوں کے  نام حسب ذیل ہیں  

1.                  یوم الاحد   (اتوار)

2.                  یوم ال اصنین   ( پیر)

3.                  یوم ال ثلو ثا     ( منگل)

4.                  یوم الاربعہ  ( بدھ )

5.                  یوم الخمیس ( جمعرات )

6.                  یوم الجمعہ (جمعہ)

7.                   یوم اس سبت (  سنیچر یا ہفتہ)

 

سالوں کی تعداد

سنہ ٦٣٨  عیسوی میں ، دوسرے خلیفہ حضرت  عمر فاروق  نے اسلامی کیلنڈر کے ہجری سالوں کی گنتی کا آغاز سال کے پہلے مہینے محرم کے پہلے دن سے کیا یہ کیلنڈر اس وقت شروع ہوا جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے یہ ہجرت ١٦ جولائی سنہ ٦٢٢ عیسوی کو ہوئی تھی لہٰذا اسلامی کیلنڈر بھی ١٦ جولائی سنہ ٦٢٢  عیسوی سے ہی شروع ہوا -    

 ہلال کا مشاہدہ اور اس کے بعد تاریخوں کا حساب کتاب بھی قائم کیا گیا تھا۔ لہذا ہر ماہ  میں ٢٩ یا ٣٠ دن ہوتے ہیں۔ روایتی طور پر ، ہر مہینے کا پہلا دن سورج غروب ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ہلال کے دیکھنے کے بعد شروع ہوتا ہے  

 

 


Comments