* کافروں کی عیش و آرام کی زندگی کو نظر انداز کریں


کافروں  کی   عیش و  آرام  کی زندگی کو  نظر انداز کریں  

سورہ نمبر ٣  آل عمران آیت نمبر ١٩٦ ، ١٩٧ 


 o لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ

 ترجمہ

الله کے نافرمان لوگوں کی  چلت پھرت تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے 

 

o مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

ترجمہ

یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سے لطف ہے  پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے  جو بدترین  جائے قرار ہے

 

تبصرہ

بہت سے کافر ایک شاندار اور آرام  دہ  زندگی گزار رہے ہیں  ان کو  دنیا میں ہر قسم  کی سہولت مہیا  ہے  اس طرح کی زندگی گزارنے کے  لئے وہ لوگ دولت کمانے میں مصروف رہتے ہیں  اور ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بڑے گھروں کی تعمیر کریں  ان میں آسائش کا سامان رکھیں  اور اپنے  بچوں کو عیش  و آرام کی زندگی دیں   ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں  ان کو یہ فکر ہی نہیں ہوتی کہ اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے وہ سب مرنے کے بعد یہیں رہ  جائے گا   الله نے یہ بات صاف طور پر  حضرت ابراہیم  اور حضرت   موسی  کی کتابوں میں اور اس سے پہلے بھی کتابوں بتادی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس کے بعد والی زندگی میں  ہمیشہ رہنا ہوگا جب یہ کتابیں نازل   ہوئی  ہونگی اس وقت لکھنے والے اور وہ چیزیں جن پر لکھا جا سکتا تھا موجود نہیں تھیں لہٰذا  زبانی طور پر پیغامات  دیئے گئے  -ظاہر ہے کہ   وقت کے ساتھ   کئی  سالوں  میں پیغماوں کی اصلی حالت بدل  گئی   اب ان  لوگوں کو اس  بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اسی دنیا میں سب کچھ ہے  اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں ہوگی جس میں حساب دینا ہوگا   -در اصل  ان کو کسی کا خوف نہیں ہے اور اس لئے انکی نظر میں  زنا ، شراب  اور جوا   جیسے عمل میں کوئی گناہ  نہیں -ایمان والوں کو اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ آخرت میں کافروں کا حشر  دردناک ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنّم ہوگا  انکی دنیا کی زندگی کو  دیکھ  کر ایمان والوں کو  اسکی  تمنا  اور حرص  کرنا نہیں   چاہیے  ایمان والوں کے لئے اس سے کئی بہتر زندگی  آخرت میں ہوگی اس لئے ایمان والوں کو  اپنی نظر آخرت پر ہی رکھنا چاہیے   

قرآن  لوگوں کو ایک نظام زندگی دیتا ہے جس پر عمل کرکے انسان اپنی آخرت سنوار سکتا ہے  اسلئے  ایمان والے قرآن والی زندگی اپنالیں  تو یقینن انعام کے مستحق ہونگے اور کامیاب ہونگے  اور جنّت کے حقدار ہونگیں  

  

Comments