ا لله کے نبی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ 

This last sermon was delivered by the Prophet on 9th Zil Hajj of 10 AH at Arafat.

In the name of Allah the most beneficent and most merciful

O People, lend me an attentive ear, I know that next year, I shall not be amongst you again. Therefore listen to what I am saying to you very carefully and TAKE THESE WORDS TO THOSE WHO COULD NOT BE PRESENT HERE TODAY.

O People, just as you regard this month, this day, this city as Sacred, so regard the life and property of every Muslim as a sacred trust. Return the goods entrusted to you to their rightful owners. Hurt no one so that no one may hurt you. Remember that you will indeed meet your Lord, and that He will indeed reckon your deeds. ALLAH has forbidden you to take usury (exorbitant rate of interest), therefore all usury obligation shall henceforth be waived. Your capital, however, is yours to keep. You will neither inflict nor suffer any inequity. Allah has Judged that there shall be no usury and that all the usury due to Abbas ibn 'Abd'al Muttalib (Prophet's uncle) shall henceforth be waived...

Beware of Shaitan, for the safety of your religion. He has lost all hope that he will ever be able to lead you astray in big things, so beware of following him in small things.

O People, it is true that you have certain rights with regard to your women, but they also have rights over you. Remember that you have taken them as your wives only under Allah's trust and with His permission. If they abide by your right then to them belongs the right to be fed and clothed in kindness. Do treat your women well and be kind to them for they are your partners and committed helpers. And it is your right that they do not make friends with any one of whom you do not approve, as well as never to be unchaste.

O People, listen to me in earnest, worship Allah, say your five daily prayers (Salat), fast during the month of Ramadan (Ramzan), and give your wealth in Zakat. Perform Hajj if you can afford it.

All mankind is from Adam and Eve, an Arab has no superiority over a non-Arab nor a non-Arab has any superiority over an Arab; also a white has no superiority over black nor a black has any superiority over white except by piety and good action. Learn that every Muslim is a brother to every other Muslim and that the Muslims constitute one brotherhood. Nothing shall be legitimate to a Muslim which belongs to a fellow Muslim unless it was given freely and willingly. Do not, therefore, do injustice to yourselves.

Remember, one day you will appear before Allah and answer your deeds. So beware, do not stray from the path of righteousness after I am gone.

O People, no prophet or apostle will come after me and no new faith will be born. Reason well, therefore, O People, and understand words which I convey to you. I leave behind me two things, the QURAN and my example, the SUNNAH (sunnat) and if you follow these you will never go astray.

All those who listen to me shall pass on my words to others and those to others again; and may the last ones understand my words better than those who listen to me directly. Be my witness, O Allah, that I have conveyed your message to your people".

ا لله کے نبی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ

یہ آخری خطبہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٩ ذلحج  10 ہجری میں حج میں عرفات کے میدان  میں پیش کیا تھا.

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے

اے لوگوں میری بات دھیان سے سنیئے - میں جانتا ہوں کہ میں اگلے سال آپ میں نہیں رہونگا ،لہٰذا میں جو بات آپ سے کررہا ہوں  اسے غور سے سنیئے اور اس کو ان تک پونھچائیں جو یہاں نہیں ہیں 

 اے لوگوں جیسے آپ اس مہینے کو، اس دن کو اور اس شہر کو مقدّس قرار دیتے ہیں ، لہذا ہر مسلمان کی زندگی ملکیت اور  مقدس ہے. جو سامان آپ کے پاس امانت کے طور پر رکھا ہے اس کو آپ  مالکان کو  واپس کردیں .  آپ کسی کو تکلیف نہ  پہچآئین  تاکہ کوئی آپ کو تکلیف نہ پہچا سکے . یاد رکھو ، تم کو اپنے پروردگار سے ملنا ہے  اور وہ یقینا آپکے اعمال کا  پورا  حساب لے گا ا. اللہ نے آپ کو سود کی بلند ترین شرح  لینے کے لئے   منع کیا ہے، لہذا تمام  قرض کی رقم کو واپس کر دیں .  تاہم، آپ  کی اصل رقم آپکی ہوگی   آپ کو کسی بھی مساوات سے کوئی نقصان نہیں ہوگا. اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عباس بن عبدل متطلب (اللہ کے نبی کے چچا )  کی سود کی رقم معاف کر دی جائے.

 اپنے مذہب کی حفاظت کے لئے شیطان سے بچیں . اس نے اس امید کو کھو دیا ہے کہ وہ آپ کو بڑے چیزوں میں گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکتا  ہے، لہذا چھوٹی چیزوں میں اس سے بچیں . .

اے لوگوں ، یہ سچ ہے کہ آپ کے کچھ حق ہیں جو خواتین پر ہیں ، لیکن ان کے حقوق بھی ہیں جو آپ پر ہیں . یاد رکھیں کہ آپ نے انہیں الله کے بھروسے پر اور اجازت سے اپنی بیویاں بنایا ہے  تو ان کو  کھانا کھلانا اور رحم دلی کرنا  اور انکے  لباس کا حق آپ پر ہے. اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو کیونکہ وہ تمہارے شریک ہیں اور مددگار ہیں. اور یہ آپ کا حق ہے کہ وہ کسی  کے ساتھ دوستی نہ کریں جن  کے ساتھ آپ کو منظور نہیں ہے، اور پاک دامنی نہ چھوڑیں . اے لوگوں غور سے سنو ، اللہ تعالی کی عبادت کرو، دن میں  پانچ وقت کی نماز ادا کریں، رمضان کے ماہ میں روزے رکھیں ، اپنے مال سے  زکوۃ ادا کریں . اگر استطاعت ہو تو  حج کریں..

تمام انسان  آدم اور حوا سے ہیں، ایک عرب کو غیر عرب پر کوئی برتری نہیں ہے اور نہ ہی ایک غیر عرب  کو  عرب پر کوئی برتری  ہے.اسی طرح کسی گورے کو کسی سیاہ پر برتری ہے نہ  کسی سیاہ کو گورے پر . جان لو کہ ہر مسلمان ایک دوسرےمسلمان کا بھائی ہے اور  سارے مسلمان ایک برادری کے ہیں . کسی مسلم کے ساتھ یہ  جائز نہیں ہوگا جو کسی ساتھی سے  اس کی کوئی چیز  چھینے جب تک کہ وہ خود آزادانہ طور پر اسے دے دے . اس لئے اپنے آپ پر ظلم نے کرنا

یاد رکھیں، ایک دن تم کو  اللہ کے سامنے حاضر ہو کر  اپنے اعمال کا جواب دینا ہے . تو خبردار رہو، میرے جانے کے بعد راستے سے گمراہ مت ہونا . .

اے لوگو، میرے بعد کوئی پیغمبر یا رسول نہیں آئے گا اور کوئی نیا ایمان نہیں پیدا ہوگا.  وجہ صاف ہے . اے لوگوں،جن الفاظ میں میں نے  آپ کو سمجھایا ہے اسےسمجھو. میں دو چیزیں اپنے  پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہوں ، قرآن  اور میری مثال یعنی میری سنت اور اگر آپ ان کی پیروی کریں گے  تو آپ کبھی بھی گمراہ نہیں ہوںگے ،جن لوگوں نے میری بات سنی ہے وہ دوسروں تک یہ بات  پہچآئین   دوسرے اور دوسروں تک . اور آخری لوگ میرے الفاظ کو براہ راست مجھ سے سننے کے مقابلے میں بہتر سمجھ سکتے ہیں.

یا الله آپ گواہ ہیں کہ میں نے آپ کے پیغام کو لوگوں تک پہچا دیا ہے