Back 

Introduction of Salaat (Namaaz)  


This is the second of the five fundamental principles of Islam. It should be noted  that in the journey during Meraj  the daily 5 times daily Salat was made mandatory on all the Muslims. This was one year before the migration to Medina.

Praying five times a day in a prescribed manner called the "Salat" (Namaz). This is an extremely important tenet of Islam and has been enjoined with great emphasis both in the Holy Quran and the sayings of Prophet Mohammad (saws).  If a man is not reciting salat must be considered as soulless man. 

In Islam the prayer gives strength  not only to the soul but also it illuminates the body of a person. . Salat also allows a person to directly communicate with his Lord and does not allow anybody to come in between. The Salat impresses upon his mind that he is the humble servant of the Great and Glorious Lord. This is also very clear that salat is a very important principle and being refered in quran in various places in ayats. Some ayats are mentioned below. 

Surah No. 20, Taha, Ayat No. 132


وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى


Translation :


Enjoin (Direct) your people to recite salat, and you also be constant in its observance. We do not ask you to provide sustenance: We provide it for you. But that is in the Hereafter for the righteous.

Surah No. 2, Al Baqar, Ayat No. 42


o وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ


Translation :


And be steadfast in prayer; Pay Alms (Zakat) regularly ; and bow down with those who bow down (in worship).           


Surah No. 2, Al Baqar, Ayat No. 238


إنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً oحَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ والصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُواْ لِلّهِ قَانِتِينَ

oأَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ


Translation :


Guard strictly your prayers, especially the Middle Prayer (Zuhar or Asar); and stand before Allah in a devout (frame of mind). If you fear (an enemy), pray on foot, or riding, (as may be most convenient), but when you are secured, celebrate Allah’s praises in the manner He has taught you, which you did not know before.

Surah No. 107, Maaoon, Ayats No. 4 to 6

oالَّذِينَ هُمْ يُرَاؤُونَ oالَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ o فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ

Translation :

Sorry for those performers of salat. Who delay reciting of their salats. Those who want to be seen (by other men). 

Hadis:

The Prophet (saws) said, "The hypocrite (Munafiq) keeps sitting at the time of Asar, witnessing setting of the sun and then recite it very late and while reciting does not get time to remember Allah properly".(Sahi Bukhari) 


  Please remember the following before you go to recite the Namaz


Surah No. 7, Al-Aaraf Ayat No. 31

يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ

o يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

Translation :

O ‘ children of Adam, dress well every time you pray at place of worship (Masjid). Eat and drink but avoid waste by excess, for Allah does not love the wasters.

Surah No. 29, Surah Ankabut, Ayat No. 45

تْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء

o وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ

Translation :

Recite what is sent to you of the book and establish regular Prayer: for Prayer restrains from shameful and unjust deeds; and remembrance of Allah is the greatest (thing in life) without doubt. And Allah knows what you do.

Comments :

According to one of the sayings of the Prophet (saws) ,“Salat is the borderline between a Muslim and a non-believer ”.

As a matter of fact, it is a form of worship which establishes the link between man and his Creator (Allah).

Once the Nabi (saws) asked his companions: "Do you believe that dirt can remain on a person bathing five times a day in a river running infront of his door?" "No!" replied the companions, "No dirt can remain on his body." Nabi (saws) remarked: "So exactly similar is the effect of Salaat offered five times a day with the grace of Allah, it washes away all the sins."

Through 'Salat' a person communes with his Lord, the Creator and the Sustainer of the universe. The salat (Namaz) enables one to stand in front of Allah(God), thank and praise Him, and ask for Him to show the "right path”. In addition, the daily ritual prayers serve as a constant reminder to Muslims that they should be grateful for Allah's blessings (Nae'mat). It ensures that every Muslim prioritizes religion over all other things. Namaz also serves as a formal method of remembering Allah.

Just as performing 'Salat' is obligatory, learning to perform it in the prescribed way is also obligatory so that one should know what he is saying to his Lord, and enjoy the full blessings and benefits of praying. In the performance of Salat, all the prayers have to be said on time.


______________________________________________________________________________________________________

 ( نماز)   کا تعارف      الصلٰوۃ  

یہ اسلام کا اہم اصول ہے اور اسلام کے پانچ بنیادی اصولوں کا دوسرا حصّہ ہے یاد رکھنا چاہئے کہ معراج میں دوران سفر میں روزانہ پانچ نمازیں پڑھنا مسلمانوں پر فرض کی گئیں  معراج کا سفر  مدینہ کی ہجرت سے ایک سال قبل ہوا تھا  قرآن کریم میں اللہ  کے احکامات اور محمّد  (صلی اللہ و  علیہ و سلم) کی احادیث میں نماز ادا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے نماز روح کی پاکیزگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اگر کوئی شخص نماز نہیں ادا کر رہا ہو  تو سمجھا جاۓ کے  وہ روح کے بغیر زندہ ہے قرآن کریم کے احکامات اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں نماز پڑھنے پر  بہت زور دیا گیا ہے. یہ روح کی پاکیزگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے. اگر کوئی آدمی نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو سمجھا جائے کہ انسان روح کے بغیر زندہ ہے کتنی عظیم بات ہے کہ  ہر نمازی کو نماز اپنے رب کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے  اور کسی کو درمیان میں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے نماز کے بارے میں قرآن پاک میں کئی مقامات پر ذکر آیا ہے ان میں سے کچھ آیتیں حسب ذیل ہیں

 

 سورہ نمبر  ٢٠ ، طٰہٰ ، آیت نمبر ١٣٢

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى

ترجمہ 

اپنے اہلو عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو.ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے بلکے رزق تو ہم تم کو دے ہی رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ  ہی کے لئے ہے 

سورہ نمبر ٢، البقر ، آیت نمبر ٤٢

وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ

ترجمہ 

  نماز قایم کرو اور باقایدگی سے  ادا کرو اور جو لوگ الله کی جانب جھکتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ جھک جاؤ (یعنی نماز میں رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں )              

سورہ نمبر ٢ ،   البقر ، آیت نمبر ٢٣٨

إنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً oحَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ والصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُواْ لِلّهِ قَانِتِينَ

oأَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ 

اپنی  نماز کی حفاظت کرو خاص طور پر بیچ والی نماز کی ، الله کے سامنے بڑھے ادب سے کھڈے رہیں  اگر آپ کو دشمن کا خوف ہو تو نماز ادا کرو ، ننگے پیر ہو یا  سواری پر- لیکن جب سکوں ہو تو الله کی اس طرح  عبادت کرو جیسا سکھایا گیا ہے .    

سورہ نمبر ١٠٧،  معمون ، آیتیں ٤ سے ٦ تک  

oالَّذِينَ هُمْ يُرَاؤُونَ oالَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ

ترجمہ 

تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز میں غفلت برتتے ہیں اور ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزوں کو دینے سے انکار کرتے ہیں  

حدیث

نبی اکرم صلی اللہ و علیہ و سلم نے فرمایا  " منافق عصر کے وقت سورج کو غروب ہوتا دیکھتا رہتا ہے اور پھر نماز دیر سے پڑھتا ہے اور ٹھیک سے رکوع اور سجود بھی نہیں کرپاتا  (صحیح بخاری)  

 

نماز ادا کرنے سے پہلے نیچے دی ہوئیں ہدایات کو یاد رکھیں  

سورہ نمبر ٧، الاعراف ، آیت نمبر ٣١

يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ

يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

ترجمہ 

اےبنی آدم !  جب تم عبادت کے لئے جاؤ تو زینت کے ساتھ جاؤ ، کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو اللہ  حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا 

سورہ نمبر ٢٩، عنکبوت ، آیت نمبر ٤٥

اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء

o وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ

ترجمہ 

(اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ    کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔

حدیث

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ  " مسلمان اور غیر مومن کے درمیان نماز ہی ایک  حد مقرر کرتی ہے "۔

 حقیقت میں ، یہ عبادت کی ایک قسم ہے جو انسان اور اس کےخالق (اللہ) کے  درمیان  ربط قائم کرتی ہے۔ ایک بار نبی 

(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نےاپنے ساتھیوں سے پوچھا: "کیا آپ کو یقین ہے کہ ایک شخص اگر دن میں پانچ بار گھر کے

 سامنے ندی میں نہاتا ہے تو کیا اس کے جسم پر کوئی گندگی رہ سکتی ہے ؟" "نہیں!"  صحابہ  نے جواب دیا ، "اس کے جسم پر کوئی 

گندگی باقی نہیں رہ سکتی ہے۔" نبی (صلی اللہ علیہوآلہ وسلم) نے فرمایا  "بالکل اسی طرح اللہ کے فضل و کرم سے دن میں 

پانچ بار  الصلٰوۃ ادا کرنے سے ، یہ  شخص کے سارے گناہوں کو دھودیتی ہے ۔الصلوٰ ۃ  ایک شخص کو اللہ  کے سامنے کھڑا ہونے 

،  اس کا شکر ادا کرنے اور  اس  کی تعریف کرنے کے قابل بناتی ہے  اس کے علاوہ ، روزانہ کی نماز بھی مسلمانوں کو مستقل یاد 

دلانے کا کام کرتی ہے کہ اسکو  اللہ کی نعمتوں  کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ ۔  نماز  اللہ کو یاد رکھنے کا باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ جس

طرح نماز پڑھنا فرض  ہے اسی طرح اس کو مقررہ وقت پر  ادا کرنا اور اس کے طریقہ کو سیکھنا بھی فرض  ہے ۔

 



If you have any feedback please revert to:  arifrk43@gmail.com