* الله سے ڈریں اور الله ہی کی عبادت کریں

  الله سے ڈریں اور الله ہی کی عبادت کریں 

 

سوره نمبر ٢، البقر، آیت نمبر ٤٠  


آمِنُواْ بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَكُمْ وَلاَ تَكُونُواْ أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَناً

o قَلِيلاً وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ

 

ترجمہ :

اے بنی اسرئیل ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی میرے ساتھ تمہارا جو عهد تھا اس کو پورا کرو اور میرا جو عهد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کرونگا  اور مجھ سے ڈرو                                                                

 

سوره نمبر ٣، العمران ، آیت نمبر ١٠٢  

 

o يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

 

ترجمہ :

اے ایمان والوں ! الله سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور موت آئے تو  اس حال میں مرنا کہ تم مسلم ہو  

سوره نمبر ٦٥، الطلاق ، آیت نمبر ٥  

 

ذَلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُإِلَيْكُمْ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُأَجْرًا

 

ترجمہ :

یہ الله کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے جو الله سے ڈرے گا الله اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا


سوره نمبر ٨، الانفال ،آیت نمبر ٢   

 

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا

o وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

 

ترجمہ :

 

سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل الله کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب الله کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور  بڑھ جاتا ہے

 سوره نمبر ٢، البقر ، آیت نمبر ٢١ 

 

o يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ :

اے انسانوں اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم  پرہیزگار بن جاؤ

 

سوره نمبر ١٦، النحل ، آیت نمبر ٤٩    

 

وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلآئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ

 

ترجمہ :

زمین اور آسمانوں میں جتنی جاندار  مخلوق ہے اور جتنے ملائکہ ہیں سب الله کے سامنے سجدہ میں ہیں وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتے

 

سوره نمبر ٩٤، الانشراح ، آیت نمبر  ٧ اور ٨  

 

o وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ o فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ

 

 

ترجمہ :

 

جب تم (کاموں) سے فارغ ہو جاؤ تو عبادت کی طرف لگ جاؤ اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جاؤ 

  

سوره نمبر ٢٧، النمل ، آیت نمبر  ١ سے ٣  

 

 

o هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ o تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُّبِينٍ

الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

 

 

ترجمہ :

 

یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی، ہدایت اور بشارت ان ایمان لانے والوں کے لئے ہے جو نماز قائم کرتے ہیں اور ذکات دیتے ہیں اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں  

 

  سوره نمبر ١٠٩، الکافروں ، آیت نمبر ١ سے ٦ 

 

وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ o قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

oلَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ o وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ

 

ترجمہ :

کہہ  دو ، اے کافروں  میں ان کی عبادت نہیں کرتا  جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں – تمھارے لئے تمہارا دین  اور میرے لئے میرا دین   

 

تبصرہ :

جب مکہ میں لوگ اسلام قبول کر رہے تھے اسوقت اس سورت کا نزول ہوا. جب مکہ کے قریش کو اس بات کا علم ہوا کہ لوگ اسلام قبول  کرتے جا رہے ہیں تو وہ بہت ناراض  ہوئے اس لئے انہوں نے   کسی نہ کسی طرح  سے اس تحریک کو روکنا چاہا . لہذا انہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الگ الگ قسم  کی پیشکشیں کرنے کا ارادہ کیا: پہلے انہوں نے  بہت زیادہ دولت کی پیشکش کی تاکہ الله کے نبی  مکہ کے سب سے امیر آدمی بن جائیں ، دوسری  پیشکش  تھی  کہ انکی پسند کی کوئی عورت انکو دے دی جاۓ بشرطیہ کہ  وہ اپنی تبلیغ کو چھوڑ کر ایک سال تک مکہ کے معبودوں کی عبادت کریں اور پھر ایک سال کے بعد  مکہ کے کافر  الله کی عبادت کریں گے  - اس کے بعد یہ سورہ نازل ہوا تھا، جس میں اللہ نے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ کافروں کے لئے انکا مذہب اور مومنوں کے لئے مومنوں کا مذہب ہے  - اور  کافروں کو مطلع کیا گیا تھا کہ اگر وہ اللہ کی عبادت  کریں یا نہ کریں ، یہ ان پر منحصر ہے. لیکن مومنوں کو  یہ کہا گیا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں  اور احتیاط کریں ان کی عبادت نہ کریں جن کی کافر عبادت کرتے ہیں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سورت کی بہت اہمیت تھی وہ اکثر  فجر اور مغرب کی سنت نماز میں  پہلی رکعت میں اس کو پڑھتے اور دوسری رکعت میں سوره اخلاص کو  پڑھا کرتے تھے - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ نے پیروکاروں کو ہدایت دی تھی کہ اس سورہ کو رات میں بستر پر جانے سے پہلےبھی  پڑھیں  

 تفسیر تفہیمل قرآن ، جلد ٦، تفسیر سوره کافرون 

Comments