* اسلام میں والدین، رشتےدار، یتیم، ضرورتمند، مسافر، پڑوسی اور نوکروں کے حقوق

اسلام میں والدین، رشتےدار، یتیم، ضرورتمند، مسافر، پڑوسی اور نوکروں کے حقوق 

 سوره نمبر ٦، الانعام  ، آیت نمبر ١٥٢

o قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا

ترجمہ :

آپ لوگوں سے کہئے : تمہے سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں لگائی ہیں  : اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں – اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو

سوره نمبر ١٧، الاسرا  (بنی اسرائیل) آیت نمبر ٢٣-٢٤

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ

أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًا

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي

o صَغِيرًا

ترجمہ :

اور آپ کے رب نے حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو- اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اف تک کہو-  نہ انہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان سے احترام سے بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ پروردگار کہ ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ بچپن میں مجھے پالا تھا  تمہارا رب خوب جانتا ہے

سوره نمبر ٤٦، الاحقاف ، آیت نمبر ١٥    

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ

أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ

وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

 ترجمہ :

ہم نے انسان کو ہدایت دی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اس کی ماں نے مشقّت اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا  اور مشقّت اٹھا کر ہی اس کو جنا –اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا  اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا " اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھ دے میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان مسلم بندوں میں سے ہوں "


تبصرہ :

 الله نے انسانوں کو ہدایت دی ہے کے وہ اپنے والدین کی عزت کریں ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا  چائیے اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے بالغ ہونے تک کتنی تکالیف اٹھائیں اس دوران انہوں نے ہر قسم کا درد محسوس کیا ہوگا اب اس کے بعد ہر اس شخص کا جو چالیس سال کو ہو تو اپنے والدین کی ہر طرح خدمات کرے اور ان کا خیال کرے ہر کسی کو یہ بات ذهن نشین کر لینا  چائیے کہ چالیس سال کی عمر میں انسان پوری طرح سمجھدار ہو جاتا ہے اسی لئے الله نے انسان کو ہدایت دی ہے کہ چالیس سال کی عمر میں خاص طور سے والدین کا احترام کرے اور ان کی خدمات کے ساتھ ان کے لئے دعا کرے  وہ شخص اس عمرمیں اپنی زندگی میں بھی بدلاؤ لاۓ مذہب کا علم حاصل کرے اور اپنے بچوں کو عملی زندگی کی طرف رجوع کرے

حدیث :

الله کے رسول (صلی الله و علیہ و سلم ) سے ایک صحابی نے دریافت کیا میرے ماں باپ میں سے خدمت  کرنے کا کس کا زیادہ حق مجھ پر ہے تو الله کے نبی نے جواب دیا " تمہاری ماں کا " انہوں نے پھر پوچھا کے ماں کے بعد- تو الله کے رسول نے کہا " تمہاری ماں کا "  تیسری مرتبہ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ ماں کے بعد – الله کے نبی نے پھر فرمایا " تمہاری ماں کا "  چوتھی بار الله کے رسول نے فرمایا " اس کے بعد تمھارے والد کا "

(بخاری، ترمذی اور ابو داود )   

سوره نمبر ٣١، لقمان،  آیت نمبر ١٤

 وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ

اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ

ترجمہ :

اور ہم نے انسان کو ہدایت دی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اسکی والدہ نے زعف پر زعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو سال تک اس کو دودھ پلایا  اس کو میرا اور اپنے ماں باپ کو شکر ادا کرنا چائیے میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے


سوره نمبر ٤، نساء ، آیت نمبر  ٣٦ 


وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى

وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا

o مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا

ترجمہ :  

اور تم الله کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ، قرابت

 داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ، پڑوسی، رشتےدار، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور لونڈی غلاموں سے  جو تمھارے قبضے میں ہوں ان سے احسان کا معاملہ رکھو- یقین رکھو کہ الله ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور ہو اور اپنی بڑھائی پر فخر کرے

سوره نمبر  ٩٣، اد دہا ، آیت نمبر ٩ سے ١١       

o وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ o وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ o فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ

ترجمہ :

تم یتیم کے ساتھ سختی نہ کرو، اور سائل کو نہ جھڑکو اور اپنے رب کی نعمتوں کا اظہار کرو

سوره نمبر ، ١٠٧، الماؤن ، آیت نمبر ١ سے ٣   


فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ

o وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ

ترجمہ :

تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی سزا و جزا کو جھٹلا تا ہے  وہی تو ہے جو یتیم کو  دھکّے دیتا ہے  اور مسکین کو کھا نا دینے پر نہیں اکساتا

سوره نمبر ٤، ان نساء ، آیت نمبر ١

 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا  وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ

                                 O  كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

ترجمہ :

اے لوگوں اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اسکا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا میں پھیلا دے الله سے ڈرو جس کا واسطہ دیکر تم ایک دوسرے کا حق مانگتے ہو اور رشتےداروں اور قرابت داروں کے تعلقات بگاڑنے  سے پرہیز کرو یقین جانو کہ الله تم پر نگہبانی کر رہا ہے

سوره نمبر ١٧، الاسرا (بنی اسرایل) ، آیت نمبر ٢٦    

o وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا


ترجمہ :

رشتےداروں کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کا اسکا حق ، فضول خرچی نہ کرو فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے 

سوره نمبر ٢٥، الفرقان ، آیت نمبر ٥٤ 

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاء بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا

ترجمہ :

اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر  پیدا کیا  پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ سلسلے چلاۓ تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے 


Comments