* شب برات کو منانا مستند ہے یا نہیں ؟

شب برات کو مذہبی احترام کے ساتھ منانا جائز ہے یا ایک بدعت ؟


عالمی مواصلاتی اور ذاتی رابطوں سے یہ بات قابل قبول ہے کہ شب برات صرف چند ممالک جیسے بھارت ، پاکستان ،بنگلہ دیش ، ایران اور افغانستان میں مذہبی طور پر  اور  پرانی روایت کے طور پر منائی جاتی   ہے- دیگر مسلم ممالک میں اور خاص طور  پر مشرق وسطی میں اس کو نہیں منایا جاتا  

بعض لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ  سورہ نمبر ٤٤ ، سورہ الدخان میں  آیتیں  ٢ سے ٤ تک میں اس رات کا حوالہ دیا گیا ہے 

 وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ

فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ

ترجمہ 

اس کتاب مبین کو ہم نے بڑی خیرو برکت والی رات (شب قدر) میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو متنببہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے 

یہ بات  واضح ہے کہ یہ آیتیں شب قدر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کیونکہ قرآن شب قدر میں ہی  نازل ہوا ہے اور  نہ کہ شب برات میں -  سورہ القدر میں صاف طور پر یہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن قدر کی رات میں نازل ہوا ہے-سورہ نمبر ٢ ، البقر ، آیت نمبر ١٨٥ اس بات کی تصدیق بھی   کرتی ہے کہ یہ مقدّس کتاب ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہے اور یہ انسانیت کے لئے سراسر ہدایت ہے اور  واضح تعلیمات پر مشتمل ہے اور  ساتھ ہی  سچ اور باطل میں فرق بتاتی ہے         

قرآن چونکہ ماہ رمضان میں نازل ہوا ہے اور اس سے یہ بات بلکل صاف ہے کہ قرآن کے نزول کی رات شعبان میں نہیں بلکہ ماہ    رمضان میں  قدر کی رات ہے-مفتی شفیع عثمانی کی تفسیر معارف القرآن میں سورہ الدخان کی تفسیر میں ذکر ہے کہ قرآن پاک لوح محفوظ سے زمینی سطح پر شب قدر میں نازل ہوا اور وہاں سے ٹکڑوں میں ٢٣ سال کے عرصے میں نبی صلی علیہ و سلم پر نازل کیا گیا    

  بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قبلہ بیت المقدّس کے رخ سے کعبہ کی طرف شب برات میں کیا گیا تھا لیکن  اس کی کسی مستند حدیث سے تصدیق نہیں ہوتی - ایک عا م رواج ہے کہ کچھ لوگ اس رات میں قبرستان جاتے ہیں ، غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں حلوہ بناتے ہیں اور آتش بازی کرتے ہیں -اس رات کے بارے میں کچھ دوسرے عقیدے بھی ہیں .مثال کے طور پر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والوں کی روحیں اس رات میں اپنے رشتے داروں سے ملتی ہیں اور   کچھ لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ اس رات میں اگلے سال  مرنے والوں کی فہرست  اور  پیدا ہونے والوں کی فہرست تیّار کی جاتی ہے یہ سب چیزیں   بے مطلب ہیں اور انکا کسی حدیث میں حوالہ  نہیں ہے

یہ معاملہ بھی غور  طلب ہے کہ اسلام میں عمل کرنے کے دو  ذرائع ہیں ایک قرآن اور دوسرے سنّت رسول یا احادیث -مفسرین کے نظریے سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں شب برات کے کوئی ذکر نہیں ہے کچھ ضعیف احادیث ہیں جن میں اس رات کا حوالہ ضرور ہے  لیکن سب عقائد قرآن ،حدیث اور سنّت رسول کی تعلیمات سے متعلیق نہیں ہے لہٰذا ہم سب کو قرآن کے احکامات اور نبی صلی علیہ و سلم کی پیروی کرنا   بے حد  ضروری ہے  

یہ بات واضح ہے کہ شعبان کی ١٥ ویں شب کسی اور شب کی طرح  ہی    ہے  - تو کیا    اس کو مذہبی احترام کے ساتھ خاص اہمیت دینا یا منانا  صحیح ہے  ؟    براہ کرم اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں کہ"  کیا یہ ہمارے مذہب کا حصّہ ہے یا ایک بدعت " ؟ یہ بھی یاد رکھیں کہ کسی بھی مسلمان کو  عبادت کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے  -یہ حق حاصل ہے صرف  الله   کو اور اس کے نبی کو   -  یاد رکھیں کہ اسلام  میں اگر کسی عمل کا مستند ثبوت  نہ ہو تو یہ عمل بدعت میں شمار ہوتا ہے اور بدعتیوں کو آخرت میں سخت سزا دی جاےگی     




Comments